Jadid Khabar

حکومت نے تاجروں کے لیے چینی اسٹاک کرنے کی حد گھٹا کر 2 ہزار کوئنٹل کر دی، 15 ستمبر سے 30 نومبر تک مؤثر

Thumb

تہواروں کے سیزن میں مرکزی حکومت نے ذخیرہ اندوزی روکنے اور بازار میں مناسب مقدار میں چینی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے منگل کو تاجروں کے لیے چینی اسٹاک کرنے کی حد کو 4 ہزار کوئنٹل سے گھٹا کر 2 ہزار کوئنٹل کر دی ہے۔ یہ نئی حد 15 ستمبر سے 30 نومبر تک نافذ رہے گی۔ موجودہ وقت میں ملک بھر میں چینی کے تاجروں کے لیے اسٹاک رکھنے کی حد 4 ہزار کوئنٹل ہے جو یکم اگست 2026 سے نافذ ہوئی تھی۔

وزارت برائے امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کے مطابق حکومت نے اب چینی اسٹاک رکھنے کی حد گھٹا کر 2 ہزار کوئنٹل کر دی ہے۔ نئی مدت کے تحت کوئی بھی چینی تاجر اسٹاک ملنے کی تاریخ سے 30 دن سے زیادہ عرصے تک اسٹاک نہیں رکھ سکے گا اور ملک میں کسی بھی جگہ یا کسی بھی وقت 2 ہزار کوئنٹل سے زیادہ چینی اسٹاک میں نہیں رکھے گا۔ تاہم علاقے کی خصوصی مارکیٹ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کولکاتہ اور اس کے آس پاس کے میٹروپولیٹن علاقوں کے لیے اسٹاک رکھنے کی حد 4 ہزار کوئنٹل ہی رہے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس قدم کا مقصد ذخیرہ اندوزی پر مزید روک لگانا، قیاس آرائی پر مبنی تجارت کی حوصلہ شکنی کرنا اور چینی کا ضرورت سے زیادہ اسٹاک جمع ہونے سے روکنا ہے۔ اس سے سپلائی چین میں چینی کی نقل و حرکت ہموار ہو سکے گی اور صارفین کو مناسب قیمتوں پر اس کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی جا سکے گی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کولکاتہ کا علاقہ اتر پردیش اور مہاراشٹر سے چینی منگواتا ہے اور ملک کے مشرقی حصے، جس میں شمال مشرقی خطہ بھی شامل ہے، میں اس کی سپلائی کرتا ہے۔ اسی وجہ سے کولکاتہ اور اس کے آس پاس کے میٹروپولیٹن علاقوں کے لیے 4 ہزار کوئنٹل کی موجودہ حد برقرار رکھی گئی ہے۔
اس کے علاوہ حکومت نے کہا کہ اس نے ملک بھر میں چینی ملوں، ڈیلروں اور تاجروں کے پاس موجود چینی کے اسٹاک کی گہری نگرانی اور فزیکل ویریفکیشن کی ہے۔ اس سے چینی کا ضرورت سے زیادہ اسٹاک جمع کرنے، معلومات فراہم نہ کرنے اور چینی کے اسٹاک کی نقل و حرکت اور فروخت میں بے ضابطگیوں کا پتہ لگانے میں مدد ملی ہے۔ ان اقدامات اور بازار میں چینی کی بہتر دستیابی کے باعث حالیہ دنوں میں مل سے نکلنے والی چینی (ایکس مل) کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد کمی آئی ہے۔ خوردہ قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان نظر آنے لگا ہے۔ حکومت کے مطابق آنے والے ہفتوں میں ملک بھر میں چینی ملوں، ڈیلروں اور تاجروں کے پاس موجود چینی کے اسٹاک کی فزیکل ویریفکیشن جاری رہے گی۔