نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی فسادات 2020 کی مبینہ سازش سے متعلق مقدمہ میں ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت پر جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، جہاں دہلی پولیس نے دونوں کی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں فسادات کی مبینہ سازش کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔
دہلی پولیس نے عدالت میں داخل اپنے جواب میں کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کے خلاف فسادات کی منصوبہ بندی، لوگوں کو متحرک کرنے اور فسادات کے دوران حکمت عملی کے تحت کردار ادا کرنے سے متعلق اہم شواہد موجود ہیں۔ پولیس نے عدالت سے دونوں کی نئی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کرنے کی بھی اپیل کی۔
یاد رہے کہ 31 جولائی کو ہونے والی گزشتہ سماعت میں دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کو اس معاملے میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ جمعرات کو سماعت کے دوران پولیس نے عدالت میں کہا، ’’شرجیل امام اور عمر خالد دہلی فسادات کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ پولیس کے پاس ان کے خلاف فسادات کی منصوبہ بندی کرنے، لوگوں کو جمع کرنے اور فسادات میں اسٹریٹجک کردار ادا کرنے سے متعلق اہم ثبوت ہیں۔‘‘
دہلی پولیس نے دونوں ملزمان کی نئی ضمانت کی درخواستوں کو قابلِ سماعت نہ قرار دینے کی بھی اسدعا کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ درخواستیں اپنے آپ میں ’غیر قانونی‘ اور عدالت کو گمراہ کرنے والی ہیں۔
پولیس نے اپنے جواب میں جنوری میں سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے اس مقدمے کے بعض شریک ملزمان کو ضمانت دی تھی، لیکن عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کیا تھا، کیونکہ دہلی فسادات میں ان کا کردار دیگر ملزمان سے مختلف پایا گیا تھا۔
دہلی پولیس نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس مقدمے پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، یعنی یو اے پی اے کی دفعہ 43 ڈی (5) کے اطلاق کو تسلیم کیا تھا۔ اس دفعہ کے تحت ضمانت کے لیے سخت شرائط عائد ہوتی ہیں۔
پولیس کے مطابق سپریم کورٹ نے جنوری کے فیصلے میں عمر خالد اور شرجیل امام کو نئی ضمانت کی درخواست دائر کرنے کے لیے دو حالات بتائے تھے۔ ان میں سے ایک اہم گواہوں کے بیانات کا ریکارڈ ہونا اور دوسرا سپریم کورٹ کے فیصلے کو ایک سال مکمل ہونا تھا۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال ان دونوں میں سے کوئی بھی شرط پوری نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے موجودہ مرحلے پر دونوں کی نئی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت نہیں کی جانی چاہیے۔
خیال رہے کہ یہ مقدمہ 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کے دوران پھوٹنے والے فسادات کی مبینہ وسیع تر سازش سے متعلق ہے۔ ان فسادات میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔