Jadid Khabar

ذات پر مبنی مردم شماری کے طریقۂ کار میں خامیاں، مرکز اسے فوری طور پر درست کرے: اشوک گہلوت

Thumb

جے پور: راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے موجودہ ذات پر مبنی مردم شماری کے طریقۂ کار کو مکمل طور پر ناقص قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت کی نیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عمل میں جس طرح کی خامیاں سامنے آ رہی ہیں، وہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ذات پر مبنی مردم شماری کے بنیادی مقصد کو کمزور کرنا اور ملک کے درست اعداد و شمار سامنے آنے سے روکنا ہے۔

اشوک گہلوت نے کہا کہ جب ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان کیا گیا تھا تو تمام طبقات نے اس کا خیرمقدم کیا تھا، لیکن اب جس انداز میں اس عمل کو الجھنوں کا شکار بنایا جا رہا ہے، اس سے مرکزی حکومت کے ارادوں پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مردم شماری میں ’’اوپن اینڈڈ سوال‘‘ کا طریقہ اختیار کیا ہے، یعنی ہر شخص کی ذات اسی نام سے درج کی جائے گی جس نام سے وہ خود اسے بتائے گا۔ گہلوت کے مطابق یہ طریقہ ہندوستان جیسے ملک میں انتہائی پیچیدہ اور ناقابلِ اعتبار نتائج کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ ایک ہی ذات کو ملک کے مختلف علاقوں میں مختلف ناموں، ذیلی ذاتوں اور لسانی شکلوں سے جانا جاتا ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس صورت حال میں ایک ہی ذات کے ہزاروں مختلف نام درج ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں اعداد و شمار مختلف زمروں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ ان کے بقول، اس طرح تیار ہونے والا حتمی ڈیٹا نہ صرف غیر معتبر ہوگا بلکہ عملی طور پر پالیسی سازی کے لیے بھی بے کار ثابت ہو سکتا ہے۔
گہلوت نے کہا کہ سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ موجودہ مردم شماری کے عمل میں ’’دیگر پسماندہ طبقات‘‘ یعنی او بی سی کے لیے کوئی واضح زمرہ شامل نہیں کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس خامی کی وجہ سے ملک میں پسماندہ طبقات کی حقیقی آبادی کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ مردم شماری سے قبل ذاتوں کی ایک جامع فہرست تیار کی جائے۔ گہلوت نے کہا کہ تلنگانہ میں 2024 اور بہار میں 2022 کے دوران کرائے گئے ذات پر مبنی سروے میں بھی اسی طرح کا طریقہ اختیار کیا گیا تھا۔
اشوک گہلوت نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ ناقص طریقۂ کار کو فوری طور پر واپس لے اور سیاسی جماعتوں، ماہرین اور عام لوگوں سے مشاورت کے بعد نئی سوال نامہ تیار کرے۔