Jadid Khabar

مایاوتی نے ریاستی حکومتوں سے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کی اپیل کی

Thumb

لکھنؤ، 20 اگست (یو این آئی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے جین الفا اور جین زی کے بچوں کی تعلیم پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اتر پردیش سمیت تمام ریاستوں کی حکومتوں سے سرکاری اسکولوں کے نظام کو بہتر بنانے کی اپیل کی ہے۔
محترمہ مایاوتی نے جمعرات کو 'ایکس' پر جاری اپنی پوسٹ میں کہا کہ ''سال 2013 کے بعد پیدا ہونے والے بچوں میں بھی اپنے اچھے دنوں کی امید جاگی ہے۔ اسکولی طلبہ اور ان کے والدین خوشگوار مستقبل کے لیے اچھی تعلیم پر فکر مند رہتے ہیں اور اس کے لیے مسلسل کافی جدوجہد بھی کرتے ہیں، لیکن ملک بھر اور خاص طور پر اتر پردیش سمیت دیگر ریاستوں کے سرکاری اسکولوں کی خستہ حالت کے سبب انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔''
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں جین زی یعنی کالج جانے والی نئی نسل کے لوگ 'اسکول ٹھیک کرو' مہم میں کافی بڑھ چڑھ کر اور پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوس اور تشویش کی بات ہے کہ جن معصوم بچوں کے ہنسنے کھیلنے اور پڑھنے لکھنے کے دن ہیں، انہیں اپنی ابتدائی سطح کی سرکاری تعلیم کے لیے بھی سڑکوں پر جدوجہد کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی 'تعلیم یافتہ بنو' کی اپیل کے سبب تعلیم، خاص طور پر اسکولی تعلیم، بہوجن سماج کے لیے ہمیشہ خاص تشویش کا موضوع رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کی حکومتوں کے دوران بھی تعلیم اور تعلیمی ماحول کو خصوصی اہمیت دی گئی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سرکاری اسکولوں کے نظام کو بہتر بنانے کے بجائے حکومتوں نے اس کی مسلسل نظرانداز کیا ہے۔ اس کے سبب تعلیمی نظام متاثر ہو رہا ہے اور کمزور طبقوں کے بچوں کی پڑھائی پر بھی منفی اثر پڑ رہا ہے۔ سرکاری اسکولوں کی عمارت، اساتذہ، پینے کا پانی، بیت الخلا اور صفائی ستھرائی جیسی بنیادی سہولتوں کی کمی پر بچوں میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔
محترمہ مایاوتی نے کہا کہ اتر پردیش سمیت دیگر ریاستوں کی حکومتوں کو بچوں کی تعلیم سے متعلق ضروریات اور مطالبات پر پوری ہمدردی کے ساتھ صحیح نیت اور پالیسی کے تحت فوری توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے حکومتوں سے بچوں کے مسائل کے حل کے لیے طاقت کے استعمال سے مکمل طور پر گریز کرنے کی اپیل بھی کی۔