Jadid Khabar

ٹرمپ نے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھایا، اسے تاریخ کا 'سب سے زبردست' قدم قرار دیا

Thumb

واشنگٹن، 20 اگست (اسپوتنک/یواین آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر پہلے سے عائد سخت پابندیوں کے علاوہ مزید معاشی دباؤ ڈالنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اسے ایران کے خلاف تاریخ کی "سب سے زبردست اقتصادی مہم" قرار دیا ہے، کیونکہ ایران نے امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے 'ٹروتھ سوشل'  پر لکھا، "اسلامک ریپبلک آف ایران کو معاہدہ کرنے کا اتنا بڑا موقع میں نے دیا جتنا کسی اور نے نہیں دیا۔ افسوس کی بات ہے کہ وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ اس لیے، آج میں کسی بھی ملک کے خلاف اب تک کی سب سے زبردست اقتصادی مہم شروع کرنے کا اعلان کر رہا ہوں!"
امریکی صدر نے کہا کہ جو بھی ملک ایران کو اپنے کاروبار اور سرکاری اداروں کے ذریعے مدد فراہم کرے گا، اسے شدید معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مسٹر ٹرمپ نے مزید لکھا، "آج میں یہ بھی اعلان کر رہا ہوں کہ جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کو ایران کو کسی بھی قسم کی مدد (لائف لائن) دینے کی اجازت دے گا، اسے خود بھاری معاشی نتائج بھگتنے ہوں گے۔ تیل کی اسمگلنگ، سوئیپ لائنز، کیش ٹرانسفر، ایکسچینج ہاؤسز، جہازوں کی رجسٹریشن، فرنٹ کمپنیاں - یہ سب ابھی بند ہونا چاہیے!"
انہوں نے ایران کے خلاف اپنی معاشی مہم کو بے مثال سطح پر الگ تھلگ کرنے والا قدم بتایا اور امریکی اتحادیوں سے ان اقدامات میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، "یہ بے مثال سطح پر اقتصادی جنگ اور الگ تھلگ کرنے والا قدم ہوگا۔"
اس سے قبل، ٹرمپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ پہلے سے نافذ سخت پابندیوں کے علاوہ ایران پر مزید معاشی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ مسٹر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا، "ہمارے پاس ایسی چیزیں ہیں جن پر ہم پابندیاں عائد کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس بہت سخت پابندیاں ہیں اور دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔"
سی این این نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکی حکام نے اپنے سیاسی اتحادیوں کو مطلع کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے آہستہ آہستہ معاشی طور پر اس کا "دم گھوٹنے" کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس ہفتے ایران کے خلاف پابندیوں کا ایک نیا پیکیج پیش کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
منگل کے روز مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کر رہا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ ہے۔