نئی دہلی، 20 اگست (یو این آئی) کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ اور 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق مقدمات میں تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے سجن کمار کا جمعرات کو انتقال ہو گیا۔ وہ 80 سال کے تھے۔
بتایا گیا ہے کہ جیل میں اچانک سجن کمار کی طبیعت بگڑ گئی، جس کے بعد انہیں صفدر جنگ اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ سجن کمار پر جنوب مغربی دہلی کے راج نگر علاقے میں ایک سکھ خاندان کے پانچ افراد کے قتل اور گرودوارہ جلانے کا الزام تھا۔ نچلی عدالت نے انہیں اس معاملے میں بری کر دیا تھا، لیکن دہلی ہائی کورٹ نے دسمبر 2018 میں فیصلہ پلٹتے ہوئے انہیں مجرم ٹھہرایا اور عمر قید کی سزا سنائی۔ اس کے بعد انہوں نے کانگریس کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا اورخودسپردگی کر دی۔ ایک دوسرے معاملے میں دہلی کی عدالت نے 12 فروری 2025 کو جسونت سنگھ اور ان کے بیٹے تروندیپ سنگھ کے قتل کے معاملے میں کمار کو مجرم ٹھہرایا۔ عدالت نے 25 فروری کو انہیں عمر قید کی سزا سنائی۔ استغاثہ نے الزام لگایا تھا کہ کمار اس ہجوم کی قیادت کر رہے تھے جس نے جسونت سنگھ اور ان کے بیٹے تروندیپ سنگھ پر حملہ کیا تھا۔
سجن کمار کا سیاسی کریئر 1977 میں تب شروع ہوا، جب وہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے لیے منتخب ہوئے۔ اس کے بعد سیاست میں سرگرم رہتے ہوئے سجن کمار دہلی پردیش کانگریس کے جنرل سکریٹری بنے اور 1980 میں پہلی بار باہری دہلی لوک سبھا سیٹ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ اس کے بعد 1991 اور 2004 میں بھی لوک سبھا پہنچے۔ وہ تین بار رکن پارلیمنٹ رہے۔ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے 31 اکتوبر 1984 کو ان کے سکھ باڈی گارڈز کے ذریعہ قتل کے بعد دہلی اور ملک کے کئی حصوں میں سکھ مخالف تشدد بھڑکا تھا اور سجن کمار پر اس دوران ہجوم کو اکسانے اور سکھوں کے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات لگے۔ تاہم، 1984 کے تشدد سے متعلق تمام مقدمات میں کمار مجرم نہیں ٹھہرائے گئے۔ جنک پوری اور وکاس پوری میں ہوئے تشدد سے متعلق ایک معاملے میں انہیں بری کر دیا گیا تھا۔ جنوری 2026 میں دہلی ہائی کورٹ نے بھی ایک معاملے میں انہیں ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر بری کیا تھا۔
1984 کے تشدد سے متعلق مقدمات میں کمار کے خلاف قانونی لڑائی کئی دہائیوں تک چلی اور مختلف مقدمات میں انہیں مجرم ٹھہرایا گیا اور بری بھی کیا گیا۔ انتقال کے وقت وہ تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔