Jadid Khabar

محبوبہ مفتی نے امریکی سفیر سے کشمیر کے سفر سے متعلق ایڈوائزری واپس لینے کی اپیل کی

Thumb

سرینگر، 19 اگست (یو این آئی) جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور سے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے امریکہ کی اعلیٰ ترین سطح کی سفری ایڈوائزری کا جائزہ لینے اور اسے واپس لینے کی اپیل کی۔ 
انہوں نے بدھ کے روز کہا کہ اس ایڈوائزری کی وجہ سے وادی کی سیاحت پر مبنی معیشت کو مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے۔ مسز محبوبہ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد جموں و کشمیر کے اپنے پہلے دورے کے دوران مسٹر گور کے لیے 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ ایڈوائزری علاقے کے سیاحتی شعبے کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔ انہوں نے لکھا، "ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور کم از کم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ کشمیر کے سفر کے خلاف اعلیٰ ترین سطح کی ایڈوائزری کا جائزہ لیں اور اسے واپس لیں۔" 
امریکی محکمہ خارجہ نے فی الحال جموں و کشمیر کو 'لیول 4: سفر نہ کریں' ایڈوائزری کے تحت رکھا ہے، سوائے مشرقی لداخ کے علاقے اور لیہ کے دوروں کے۔ ایڈوائزری میں دہشت گردی اور شہری بدامنی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس میں خاص طور پر علاقے میں انفرادی تشدد کے امکانات کا ذکر کیا گیا ہے، جس میں سرینگر، گلمرگ اور پہلگام جیسے سیاحتی مقامات بھی شامل ہیں۔ مسز محبوبہ نے ایڈوائزری کو صرف ایک تنبیہ سے کہیں زیادہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس نے "کشمیر اور دنیا کے درمیان ایک دیوار" کھڑی کر دی ہے، ایسے وقت میں جب ہزاروں خاندان اپنی روزی روٹی کے لیے سیاحت پر منحصر ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ ایڈوائزری واپس لینے سے "اعتماد کا ایک مضبوط پیغام" جائے گا، بین الاقوامی سیاحوں کی واپسی کو فروغ ملے گا اور سیاحتی صنعت سے وابستہ لوگوں کو راحت ملے گی۔ یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب سفیر گور اپنے پہلے دورے پر کشمیر پہنچے، جس میں لداخ جانے سے پہلے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔