Jadid Khabar

مظاہرین کی فیشل ریکگنیشن نگرانی کے خلاف عرضی پر سماعت کرے گا سپریم کورٹ

Thumb

نئی دہلی، 13 اگست (یو این آئی) سپریم کورٹ نے مظاہرے کی جگہوں پر پولیس کی جانب سے فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی اور دیگر بائیو میٹرک نگرانی کے اقدامات کو چیلنج کرنے والی مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ اے اے رحیم کی رٹ عرضی پر سماعت کرنے پر جمعرات کے روز رضامندی ظاہر کی ہے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے اس عرضی کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے زیرِ اہتمام حالیہ طلباء کے احتجاج سے جڑی دیگر زیرِ التوا عرضیوں کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت دی۔

عرضی گزار اے اے رحیم کی طرف سے پیش سینئر ایڈووکیٹ ڈاکٹر مینکا گروسوامی نے بنچ کے سامنے دلیل دی کہ یہ عرضی جنتر منتر پر مظاہرین کی نگرانی کے لیے دہلی پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر ڈیجیٹل آلات کے استعمال کے تناظر میں دائر کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے اس نگرانی کے کام کے لیے دو نجی اداروں، آدتیہ انفوٹیک لمیٹڈ اور ڈائمینشن این ایکس جی پرائیویٹ لمیٹڈ کی خدمات حاصل کی ہیں۔ عرضی گزار کے مطابق، مظاہرین کے ڈیٹا کا جمع کرنا، پروسیسنگ اور اسے محفوظ رکھنا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2023 کی دفعات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا گیا۔

عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے کسی واضح قانونی اختیار کے بغیر شہری مظاہروں کے دوران مظاہرین، صحافیوں اور دیگر لوگوں کی بائیو میٹرک نگرانی کی۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی تصاویر اور فوٹیج جمع کرنے اور پروسیس کرنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں، ڈرونز اور دیگر ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا گیا۔

عرضی میں سپریم کورٹ کے 2017 کے تاریخی پٹاسوامی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی گئی ہے کہ اس طرح کی نگرانی پرائیویسی (نجی زندگی) کے حق کی خلاف ورزی کرتی ہے، جب تک کہ اسے قانون کی حمایت حاصل نہ ہو اور اسے ضروری و مناسب نہ ٹھہرایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی عرضی میں استعمال کی گئی ٹیکنالوجیز، ڈیٹا بیس اور نجی وینڈرز کی تفصیلات کو عام کرنے نیز متاثرہ افراد کو اپنے ڈیٹا تک رسائی اور اسے ہٹانے کا نظام فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔