Jadid Khabar

کنزیومر کمیشنوں میں زیر التوا مقدمات پر سی جے آئی سوریہ کانت کی تشویش، ملک بھر کی رپورٹ طلب

Thumb

صارف تنازعات کے فوری اور سستے انصاف کے لیے قائم صارف (کنزیومر) کمیشنوں میں مقدمات کے بڑھتے بیک لاگ پر سپریم کورٹ نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت نے کہا کہ اگر صارفین کے مقدمات برسوں تک زیر التوا رہیں تو ایسے خصوصی فورمز کے قیام کا بنیادی مقصد ہی ناکام ہو جاتا ہے۔ عدالت نے ملک بھر کے صارف کمیشنوں کی صورت حال پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

صارف تنازعات کے ازالے سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے صارف کمیشنوں کے کام کرنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔ بنچ نے ایک میڈیا رپورٹ کا بھی نوٹس لیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک مقدمہ 2019 سے زیر التوا ہے اور اسے 2022 میں صرف ایک مرتبہ سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا گیا، لیکن اس کے بعد سے اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
اس صورت حال پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا صارف کمیشن اسی طرح کام کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جب لوگوں کو فوری اور کم خرچ انصاف فراہم کرنے کے مقصد سے خصوصی کمیشن قائم کیے گئے ہیں تو پھر مقدمات کا برسوں تک زیر التوا رہنا تشویش ناک ہے۔
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ عدالتوں اور دیگر قانونی اداروں کے حوالے سے مسلسل بنیادی ڈھانچے اور سہولتوں کی کمی کی بات کی جاتی ہے، لیکن اگر قائم شدہ ادارے اس طرح کام کر رہے ہوں تو اس پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے قومی صارف تنازعات ازالہ کمیشن (این سی ڈی آر سی) کے صدر سے ملک بھر کے صارف فورمز اور کمیشنوں کے کام کاج سے متعلق جامع رپورٹ طلب کی ہے۔
عدالت نے رپورٹ میں زیر التوا مقدمات کی مجموعی تعداد، موجودہ خالی عہدوں اور ہر بنچ کی جانب سے مقدمات نمٹانے کی شرح کی تفصیلات فراہم کرنے کو کہا ہے۔ اس کے علاوہ این سی ڈی آر سی سے یہ بھی بتانے کو کہا گیا ہے کہ مقدمات کے بڑھتے بوجھ سے نمٹنے کے لیے صارف کمیشنوں کی تعداد میں اضافے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ سپریم کورٹ نے این سی ڈی آر سی کے صدر کو دو ہفتوں کے اندر رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
عدالت نے ریاستی صارف کمیشنوں اور ریاستی محکمہ صارف امور سے بھی زیر التوا مقدمات کے تفصیلی اعداد و شمار طلب کیے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں مقدمات کے سال وار بریک اپ کو بھی شامل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ ملک بھر میں زیر التوا مقدمات کی حقیقی صورت حال کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔
سپریم کورٹ کا مقصد صارف کمیشنوں میں مقدمات کے بڑھتے بوجھ کی وجوہات اور نظام میں موجود رکاوٹوں کی نشاندہی کرنا بھی ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ بیک لاگ کم کرنے کے لیے مرکز اور ریاستی حکومتوں کو صارف کمیشنوں میں خالی عہدے جلد پر کرنے کے ساتھ ساتھ ان اداروں کی مجموعی صلاحیت اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کو ترجیح دینی ہوگی۔