آسام میں 3.32 لاکھ افراد متاثر، ناگالینڈ میں فضائیہ کی ریسکیو مہم جاری
گوہاٹی: شمال مشرقی ہندوستان میں مانسون کی شدید بارشوں کے باعث سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ آسام میں اگرچہ سیلاب کی صورتحال میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، تاہم ریاست کے سات اضلاع میں 3 لاکھ 32 ہزار سے زائد افراد اب بھی اس آفت سے متاثر ہیں۔ دوسری جانب ناگالینڈ میں مسلسل بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہونے کے بعد ہندوستانی فضائیہ کو ریسکیو اور راحت رسانی کی کارروائیوں میں شامل کرنا پڑا، جہاں 100 سے زائد پھنسے ہوئے افراد کو بحفاظت نکالا گیا اور دور افتادہ علاقوں تک ضروری امدادی سامان پہنچایا گیا۔
آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کے مطابق ریاست کے 21 ریونیو سرکلوں کے تحت آنے والے 622 دیہات اب بھی سیلاب کی زد میں ہیں، جہاں مجموعی طور پر 3 لاکھ 32 ہزار 639 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شیوساگر، چرائیدیو، گولاگھاٹ، جورہاٹ، ناگاؤں، سونیت پور اور کامروپ (میٹرو) شامل ہیں۔ اگرچہ متعدد علاقوں میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہو گئی ہے، تاہم نشیبی علاقوں میں سیلابی پانی جمع ہونے کے باعث ہزاروں خاندانوں کی مشکلات برقرار ہیں۔
سیلاب نے زرعی شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حکام کے مطابق تقریباً 45 ہزار 341.98 ہیکٹیئر زرعی اراضی اب بھی زیر آب ہے، جس کے باعث دھان سمیت متعدد فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ ریاستی حکومت نقصانات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ متاثرہ کسانوں کی امداد کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔
آبی صورتحال کے حوالے سے اے ایس ڈی ایم اے نے بتایا کہ نومالی گڑھ میں دھنسری (جنوبی) ندی اب بھی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے، تاہم ریاست کی دیگر بڑی ندیوں میں پانی کی سطح معمول پر آ چکی ہے۔ اس کے باوجود کئی دیہات میں پانی بھرے ہونے کے سبب معمولات پوری طرح بحال نہیں ہو سکے ہیں۔
سیلاب کی تازہ لہر کے دوران ضلع شیوساگر میں مزید سات افراد جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد رواں سال آسام میں سیلاب اور اس سے متعلقہ حادثات میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 75 تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق فی الحال کسی شخص کے لاپتہ ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
متاثرین کی امداد کے لیے ریاست بھر میں 115 ریلیف مراکز فعال ہیں، جن میں 81 امدادی کیمپ اور 34 امدادی تقسیم مراکز شامل ہیں۔ ان کیمپوں میں اس وقت 32 ہزار 477 افراد مقیم ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرین شیوساگر کے امدادی کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں، جبکہ جورہاٹ، گولاگھاٹ اور چرائیدیو میں بھی بڑی تعداد میں متاثرہ خاندانوں کو عارضی پناہ فراہم کی گئی ہے۔
ریاستی حکومت، طبی ٹیمیں، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) اور مقامی رضاکار مشترکہ طور پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں میں اناج، پینے کا صاف پانی، ترپال، بچوں کی خوراک، ادویات، بلیچنگ پاؤڈر اور دیگر ضروری اشیائے ضرورت تقسیم کی جا رہی ہیں۔ اے ایس ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ضلع انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے تاکہ امدادی اور بازآبادکاری کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں۔
دوسری جانب ناگالینڈ میں مسلسل موسلادھار بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد اضلاع میں سڑکوں کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جس کے بعد ریاستی حکومت کی درخواست پر ہندوستانی فضائیہ نے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ منگل کو فضائیہ نے 100 سے زائد پھنسے ہوئے شہریوں کو بحفاظت محفوظ مقامات تک منتقل کیا، جبکہ دور دراز اور کٹے ہوئے علاقوں میں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری امدادی سامان بھی فضائی راستے سے پہنچایا۔
حکام کے مطابق مون اور لونگلینگ اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کئی سڑکیں بند ہو گئیں اور متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ ایسی صورتحال میں فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں نے ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ ریاستی حکومت کا ہیلی کاپٹر بھی اس مشن میں شریک رہا۔
ریسکیو مہم کے دوران ان امیدواروں کو بھی بحفاظت نکالا گیا جو ناگالینڈ پبلک سروس کمیشن کے کمبائنڈ ایجوکیشن سروسز امتحان میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے لیکن سڑکیں بند ہونے کے باعث مختلف مقامات پر پھنس گئے تھے۔
ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ نیفیو ریو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ہوم گارڈز، سول ڈیفنس، ایس ڈی آر ایف، ہندوستانی فضائیہ اور دیگر امدادی ادارے مکمل تال میل کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی اولین ترجیح متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنا، ضروری امدادی سامان کی فراہمی کو یقینی بنانا اور تباہ شدہ سڑکوں کی جلد بحالی ہے۔ حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں ریسکیو، ریلیف اور بحالی کا عمل مسلسل جاری ہے، جبکہ موسمی صورتحال پر بھی مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی نئی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔