سپریم کورٹ نے مرکز کو 'کام کے بعد ماحولیاتی منظوری' دینے کی اجازت دی، 2021 کے آفس میمورنڈم کوکیا منسوخ
نئی دہلی، 29 جولائی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے بدھ کو فیصلہ سنایا کہ مرکزی حکومت صرف ماحولیات (تحفظ) ایکٹ، 1986 کی دفعہ تین کے تحت قانونی نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بعد ہی کام کے بعد ماحولیاتی منظوری کی اجازت دے سکتی ہے۔ وہ صرف ایک عام انتظامی آفس میمورنڈم کے ذریعے ایسی منظوریاں نہیں دے سکتی ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وپل پنچولی کی بنچ نے حسبِ ضرورت مرکزی حکومت کے سال 2021 کے آفس میمورنڈم کو کالعدم قرار دے دیا جس نے ان منصوبوں کو ماحولیاتی منظوری فراہم کرنے کے لیے ایک نظام قائم کیا تھا، جنہوں نے پہلے ماحولیاتی منظوری حاصل کیے بغیر ہی اپنا کام شروع کر دیا تھا۔
عدالت نے اپنا فیصلہ مستقبل کے لیے نافذ کیا اور 2021 کے آفس میمورنڈم کے تحت پہلے سے دی گئی ماحولیاتی منظوری کو برقرار رکھا۔ بنچ نے مانا کہ 2021 کا آفس میمورنڈم ، ماحولیات (تحفظ) ایکٹ، 1986 کے قوانین کے خلاف تھا، کیونکہ اس میں قانونی نوٹیفکیشن کے بجائے انتظامی حکم کے ذریعے ماحولیاتی منظوری کے طریقہٴ کار میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ 2006 کی نوٹیفکیشن کے تحت پہلے سے ماحولیاتی منظوری لینا ضروری ہے لیکن مرکزی حکومت ایک قانونی نوٹیفکیشن کے ذریعے کام کے بعد منظوری کی ایک محدود اسکیم لا سکتی ہے۔