Jadid Khabar

بی جے پی دور میں سب سے زیادہ پیپر لیک ہوئے، صرف قانون بنانے سے نظام بہتر نہیں ہوگا: اکھلیش یادو

Thumb

 
نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران سماجوادی پارٹی (ایس پی) نے پیپر لیک کے مسئلے اور ایودھیا رام مندر میں چندے کے مبینہ استعمال سمیت مختلف معاملات پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی کے قومی صدر اور رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے کہا کہ ملک میں مسلسل سامنے آنے والے پیپر لیک کے واقعات کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے اور صرف نئے قوانین بنانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں سب سے زیادہ پیپر لیک کے واقعات پیش آئے ہیں، جس کے باعث نوجوانوں میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے بڑی تعداد میں طلبہ اور نوجوان اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے دہلی پہنچے ہیں اور حکومت کو ان کے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔
انہوں نے پیپر لیک مخالف ترمیمی بل پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو پہلے یہ واضح کرنا چاہیے کہ پہلے سے موجود قوانین کے تحت اب تک کتنے ملزمان کے خلاف کارروائی کی گئی اور کتنے افراد کو سزا ملی۔ ان کے مطابق صرف قانون میں ترمیم کر دینا کافی نہیں، بلکہ اس کے مؤثر نفاذ اور شفاف کارروائی کی بھی ضرورت ہے۔
اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ صرف اتر پردیش میں ہی پیپر لیک کے 20 سے زائد واقعات سامنے آئے، لیکن حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے ملزمان گرفتار ہوئے اور کتنے مقدمات منطقی انجام تک پہنچے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب بدعنوانی میں حکومت سے وابستہ افراد کے نام سامنے آتے ہیں تو صرف قانون سازی سے مسئلے کا حل ممکن نہیں رہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو پیپر لیک روکنے کے لیے کیے گئے عملی اقدامات اور ان کے نتائج عوام کے سامنے رکھنے چاہییں۔
دریں اثنا سماجوادی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن رام گوپال یادو نے ایودھیا رام مندر سے متعلق چندے کے معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر کروڑوں عقیدت مندوں کی آستھا کا معاملہ ہے اور لوگوں نے بھگوان رام کے نام پر مکمل اعتماد کے ساتھ عطیات دیے تھے، اس لیے اس رقم کا استعمال صرف مندر کی تعمیر اور مذہبی مقاصد کے لیے ہونا چاہیے تھا۔
رام گوپال یادو نے کہا کہ اگر چندے کے استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو اس کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے، کیونکہ یہ کروڑوں لوگوں کے مذہبی جذبات سے جڑا معاملہ ہے۔ انہوں نے پیپر لیک مخالف بل پر بھی حکومت کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صرف نئے قوانین بنانے سے بدعنوانی ختم نہیں ہوتی، بلکہ نظام میں ایمانداری، جوابدہی اور شفافیت لانا ضروری ہے۔