نئی دہلی، 25 جولائی (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ احتجاج کر رہے طالب علموں کے تینوں مطالبات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو ان کے عہدے سے ہٹانا ہی ہو گا۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کو یہاں 10 جن پتھ کے باہر صحافیوں سے کہا کہ طالب علموں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کو طالب علموں اور ملک کے مستقبل کے ساتھ ہوئے واقعہ کے لیے معافی مانگنی ہوگی۔ انہوں نے کہا "طلبا کا پہلا مطالبہ بدعنوان ، نااہل اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام وزیرِ تعلیم کو برطرف کرنا ہے۔ انہیں وزارتِ تعلیم سے ہٹا کر کسی دوسری وزارت میں بھیجے جانے کی بات چل رہی ہے لیکن یہ نہ تو طالب علموں کو قبول ہے اور نہ ہی ملک کے لوگوں کو۔"
انہوں نے کہا کہ مسٹر پردھان کرپشن نیز ملک کے طالب علموں اور ان کے مستقبل کے ساتھ ہوئے ناانصافی کی علامت بن چکے ہیں۔ اس لیے انہیں کسی دوسری وزارت میں بھیجنے کی نہیں، بلکہ عہدے سے ہٹانے کی ضرورت ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ طالب علموں پر حملہ کرنے والے نیز اس کی منصوبہ بندی کرنے اور اسے نافذ کرنے والے تمام لوگوں کو سزا دی جائے اور انہیں جواب دہ ٹھہرایا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تحریک کے دوران ایک طالبہ زخمی ہوئی ہے، جبکہ ایک طالب علم کی آنکھ میں گولی لگی۔ اس کے علاوہ ہزاروں طالب علموں کے سر اور پیروں پر لاٹھیاں برسی ہیں نیز کئی کے جسم میں چھرے لگے۔ ان تمام واقعات کے لیے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ اس پورے نظام کے سربراہ ہونے کے ناطے مسٹر مودی طالب علموں اور ملک کے مستقبل کے ساتھ جو ہوا اس کے لیے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں پر حملہ کرنے والے اس نظام سے طالب علموں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت کی پوری طاقت بھی انہیں مظاہرے کی جگہ سے نہیں ہٹا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہے مظاہرہ روکنے کی کوشش کرے، دھمکائے یا کوئی بھی دباؤ بنائے، اپوزیشن اور طالب علم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالب علم ملک کا مستقبل ہیں اور ان سے کوئی لڑ نہیں سکتا۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم پر حملہ کرتے ہوئے کہا، "مسٹر مودی ہندوستان کا ماضی ہیں اور ماضی کبھی مستقبل سے نہیں لڑ سکتا۔"