Jadid Khabar

محمد علی جوہر یونیورسٹی تنازعہ: سماجوادی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کا وفد آج رامپور جائے گا

Thumb

سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے رامپور کی محمد علی جوہر یونیورسٹی میں مجوزہ عمارتوں کو منہدم کرنے کے خلاف احتجاجی مہم کو مزید تیز کر دیا ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس کے اراکین پارلیمنٹ کا وفد ہفتے کے روز ضلع کا دورہ کرے گا، تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ ساتھ ہی انتظامیہ پر بلڈوزر کارروائی نہ کرنے کا دباؤ بنایا جائے گا۔ یہ قدم پارٹی کے ذریعہ اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد پانڈے کی قیادت میں ارکانِ اسمبلی کے ایک وفد کو جمعرات کے روز رامپور بھیجنے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ اب سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کی ہدایت پر یونیورسٹی سے متعلق پیش رفت کے بارے میں براہِ راست معلومات حاصل کرنے کے لیے 9 رکنی پارلیمانی وفد ضلع کا دورہ کرے گا۔ پارٹی کے مطابق ارکانِ پارلیمنٹ رامپور ضلع انتظامیہ کے حکام سے ملاقات کریں گے۔ یونیورسٹی کو جاری کیے گئے نوٹس کے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کریں گے اور پارٹی قیادت کو پیش کرنے کے لیے ایک رپورٹ تیار کریں گے۔

 وفد انتظامیہ سے یہ درخواست بھی کرے گا کہ تمام قانونی اور انتظامی معاملات کا مکمل حل نکلنے تک کسی بھی قسم کی انہدامی کارروائی نہ کی جائے۔ سماجوادی پارٹی کے وفد میں مراد آباد کی رکن پارلیمنٹ روچی ویرا، اقرا حسن، ہریندر سنگھ ملک، راجیو رائے، محب اللہ ندوی، نیرج موریہ اور ضیاء الرحمن برق سمیت پارٹی کے دیگر اراکین پارلیمنٹ شامل ہیں۔ یہ معاملہ رامپور انتظامیہ کے ذریعہ سے جوہر یونیورسٹی کے خلاف کی گئی کارروائی کے بعد سامنے آیا ہے۔ جانچ کے دوران حکام کو پتہ چلا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتیں منظور شدہ نقشے کے بغیر تعمیر کی گئی تھیں۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے انتظامیہ نے انہدام کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ اس کے تحت یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 15 دنوں کے اندر ان غیر مجاز تعمیرات کو ہٹا دے
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر یونیورسٹی انتظامیہ مقررہ مدت کے اندر انہدام کا عمل انجام دینے میں ناکام رہتی ہے تو ضلع انتظامیہ خود انہدامی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔ بلڈوزر کارروائی کے امکان نے سیاسی تنازعہ کو جنم دیا ہے۔ سماجوادی پارٹی نے اس اقدام کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے جوہر یونیورسٹی کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ معاملہ اب اتر پردیش میں ایک بڑے سیاسی تنازعہ کا موضوع بن گیا ہے، جہاں اپوزیشن انتظامی شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ ضلعی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی عمارتوں کی تعمیر سے متعلق قواعد کی مبینہ خلاف ورزی کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔