Jadid Khabar

پارلیمنٹ ہاؤس میں این ڈی اے اور انڈیا اتحاد کا مظاہرہ

Thumb

نئی دہلی، 23 جولائی (یو این آئی) طلبہ کے معاملے پر پارلیمنٹ کے اندر جاری جمود کے درمیان برسرِ اقتدار قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) اور اپوزیشن 'انڈیا' اتحاد کے ارکانِ پارلیمنٹ نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں مکر دوار پر ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی اور مظاہرہ کرتے ہوئے طلبہ کے معاملے پر سیاست کرنے کا الزام لگایا۔

این ڈی اے ارکانِ پارلیمنٹ نے نیٹ سوالنامے کے افشا (پیپر لیک) معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس پر بحث سے بچنے کا الزام لگایا۔ دوسری طرف، انڈیا اتحاد کے ارکانِ پارلیمنٹ نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت پر طلبہ کے مسائل کو نظر انداز کرنے نیز احتجاج کرنے والے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا الزام لگایا۔
اپوزیشن کے مظاہرے میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر محترمہ سونیا گاندھی، راہل گاندھی، محترمہ پرینکا گاندھی واڈرا، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھیلیش یادو، ترنمول کانگریس کے سوگت رائے، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد) کی محترمہ سپریا سولے نیز اپوزیشن پارٹیوں کے کئی دیگر ارکانِ پارلیمنٹ شامل ہوئے۔ ارکانِ پارلیمنٹ نے وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے مطالبے والا بینر بھی دکھایا۔
اس درمیان پارلیمانی امور کے وزیر کیرن ریجیجو نے کہا کہ حکومت نیٹ سوالنامے کے افشا معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے اور اپوزیشن کو بحث میں حصہ لینا چاہیے۔ بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ سدھانشو ترویدی نے الزام لگایا کہ کانگریس پارلیمنٹ کے اندر بحث سے بچ رہی ہے، جبکہ حکومت گنہگاروں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔
کانگریس رکنِ پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے کہا کہ حکومت کو سب سے پہلے مسٹر پردھان کو عہدے سے ہٹانا چاہیے اور طلبہ پر طاقت کا استعمال کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طلبہ کا نظام سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔
محترمہ واڈرا نے کہا کہ حکومت طلبہ کے جائز مطالبات کو سننے کے بجائے ان پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپر لیک کے واقعات کے لیے حکومت کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے اور وزیرِ تعلیم کو عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔