دہلی میں مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں 100 سے زائد پولیس اہلکار اور مظاہرین زخمی ہوگئے۔ دہلی پولیس کے مطابق علاقے میں احتجاج کے دوران صورتحال مزید بگڑ گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو بار بار قائل کیا گیا اور منتشر ہونے کے لیے کہا گیا، لیکن انھوں نے سننے سے انکار کر دیا اور جگہ جگہ ممنوعہ احکامات کی خلاف ورزی کی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین نے رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی، پولیس اہلکاروں پر پتھر اور دیگر اشیاء پھینکیں، سرکاری گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی، اور تشدد کا سہارا لیا، جس سے قانون اور سلامتی متاثر ہوئی۔
پولیس کے مطابق جھڑپوں میں 118 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں اسپیشل سی پی، جوائنٹ سی پی، ایڈیشنل سی پی، ڈی سی پی، ایڈیشنل ڈی سی پی، اور اے سی پی رینک کے افسران شامل ہیں۔ متعدد خواتین پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئیں۔ اس کے ساتھ ہی 60 کے قریب مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ زخمی پولیس اہلکاروں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران 15 سے 20 سرکاری گاڑیوں اور دیگر سرکاری املاک کو نقصان پہنچا۔
اب تک تقریباً 70 مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ پولیس ان کے خلاف تعزیرات ہند(بی این ایس) اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی کر رہی ہے، بشمول فسادات، سرکاری ملازم پر حملہ، اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا۔ دہلی پولیس نے کہا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا اس کی ذمہ داری ہے اور تشدد یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کسی کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔