لکھنؤ، 20 جولائی (یو این آئی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی ) کی قومی صدر مایا وتی نے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے آغاز پر مرکزی حکومت سے عوامی مفاد کے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجوں کے درمیان پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک تصادم کی صورتحال سے بچنا چاہیے۔
پیر کو سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں مایا وتی نے کہا کہ میڈیکل سمیت مختلف مسابقتی امتحانات اور سرکاری ملازمتوں کی بھرتی کے عمل میں مسلسل سامنے آنے والی بے ضابطگیوں اور پیپر لیک ہونے کے واقعات سے نوجوانوں میں شدید مایوسی اور عدم اطمینان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے حکومت کو فوری طور پر مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں اور مجرموں کے ساتھ ساتھ امتحانی نظام سے وابستہ ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔
بسپا سربراہ نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں معیاری تعلیم کے فقدان کی وجہ سے نجی اسکولوں اور کوچنگ اداروں پر انحصار بڑھ رہا ہے، جس سے عام خاندانوں پر اضافی معاشی بوجھ پڑ رہا ہے۔ انہوں نے پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک سرکاری تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے اور طلبہ و طالبات کو آگے بڑھنے میں رکاوٹ بننے والے عناصر پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا۔ مس مایا وتی نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر باوقار زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے تعلیم کے لیے مناسب بجٹ فراہم کرنے اور اس کے معیار کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان مسائل پر وقت رہتے سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو نوجوانوں میں عدم اطمینان بڑھے گا اور مختلف مقامات پر تحریکیں تیز ہو سکتی ہیں۔ حکومت کو حساسیت کے ساتھ ان مسائل کو حل کرنا چاہیے۔