Jadid Khabar

ملک کی سبھی یونیورسٹیوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش ہو رہی‘، کانگریس کا مودی حکومت پر حملہ

Thumb

 
کانگریس نے آج مودی حکومت کے ’وکست بھارت شکشا ادھشٹھان بل‘، یعنی نئے تعلیمی بل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’مودی حکومت کی نیت صاف نہیں ہے۔ وکست بھارت شکشا ادھشٹھان بل‘ سے انکا مقصد ملک کی سبھی یونیورسٹیوں کا کنٹرول حاصل کرنا ہے۔‘‘ یہ بیان کانگریس لیڈر نے ’نیوز 24‘ کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران دیا۔
اس بات چیت میں جئے رام رمیش نے کچھ اہم ایشوز پر اپنی باتیں رکھیں، اور خاص طور سے پارلیمنٹ کے شروع ہونے والے مانسون اجلاس پر اپنی رائے ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم پارلیمنٹ چلنے دینا چاہتے ہیں، لیکن اس کے لیے برسراقتدار طبقہ اور اپوزیشن کے درمیان تعاون ہونا ضروری ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’گزشتہ کچھ پارلیمانی اجلاس میں دیکھا گیا ہے کہ برسراقتدار طبقہ کے اراکین پارلیمنٹ مظاہرہ کرنے آ جاتے ہیں، کیونکہ وہ پارلمنٹ نہیں چلانا چاہتے۔‘‘
پارلیمنٹ کے شروع ہونے والے اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ ’’اس مانسون اجلاس میں 19 کام کے دن ہیں۔ اس دوران کئی بل پیش ہوں گے۔ جو بل ملک کے مفاد میں نہیں ہے، مثلاً حد بندی بل، ہم ان کی مخالفت کریں گے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ملک میں کئی ایسے ایشوز ہیں، جنھیں اپوزیشن پارٹیاں اٹھائیں گی۔ ان میں شری رام مندر چندہ چوری معاملہ، نیٹ پیپر لیک کو لے کر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ، خارجہ پالیسی سے متعلق چیلنجز وغیرہ شامل ہیں۔‘‘ خارجہ پالیسی کے بارے میں مثال پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’آپریشن سندور کے وقت پاکستان اور چین کے درمیان جگل بندی دیکھنے کو ملی، اور آج ہم اعداد و شمار دیکھ سکتے ہیں کہ اس سال چین کے ساتھ ہمارا تجارتی خسارہ 130 بلین ڈالر ہوگا۔‘‘
جئے رام رمیش نے اپنی بات چیت کے دوران ’بھارت جوڑو یاترا‘ کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بھارت جوڑو یاترا ملک کی سیاست، کانگریس پارٹی اور خود راہل گاندھی کے لیے بدلاؤ والا لمحہ تھا۔ ’بھارت جوڑو یاترا‘ اور ’بھارت جوڑو نیائے یاترا‘ میں جو ایشوز اٹھائے گئے، وہ بہت اثردار نکلے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے مودی بریگیڈ کا ذکر کرتے ہوئے یاد دلایا کہ ’’2024 کے لوک سبھا انتخاب میں جو لوگ ’400 پار‘ کا نعرہ لگا رہے تھے، ان کو 240 سیٹیں ملیں۔‘‘