Jadid Khabar

برطانیہ میں ہندو مندر نیلام، زمین ’یوکے اسلامک مشن‘ کو سونپی گئی، تنازعہ کا آغاز

Thumb

 
برطانیہ کی ایک مقامی حکومتی کونسل نے فنڈ کی کمی دور کرنے کے مقصد سے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے، جس نے وہاں کے اقلیتی ہندو طبقہ کو ناراض کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 40 برس پرانے ایک ہندو مندر اور کمیونٹی سینٹر کی زمین کو قرض و بجٹ خسارے میں ڈوبی سرکاری کونسل نے نیلام کر دیا۔ موصولہ خبروں کے مطابق اس زمین کو ’یوکے اسلامک مشن‘ کو سوپنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس فیصلہ کے بعد برطانیہ میں ہندو اور مسلم سماج کے درمیان بھی تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ معاملہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں پہنچ گیا ہے۔
یہ پورا تنازعہ لندن سے قریب 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پیٹربورو شہر کا ہے۔ یہاں ایک سرکاری احاطہ ہے، جسے ’نیو انگلینڈ کمپلیکس‘ کہا جاتا ہے۔ اس احاطے میں گزشتہ 4 دہائیوں سے ’بھارت ہندو سماج‘ کا مندر اور کمیونٹی سینٹر چل رہا ہے۔ اس پوری زمین اور احاطے کا مالکانہ حق پیٹربرو شہر کی مقامی حکومت یعنی ’پیٹربرو سٹی کونسل‘ کے پاس ہے۔ کونسل کو اس وقت بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے کونسل نے اس سرکاری احاطے کو نیلام کیا۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ نے مندر کی ایک ٹرسٹی کے حوالہ سے بتایا کہ ’’مندر کو بچانے کے لیے ’ہندو ٹرسٹ نے 1.4 ملین پاؤنڈ کی خطیر رقم کی بولی لگائی تھی، لیکن سٹی کونسل نے ’یوکے اسلامک مشن‘ کی بولی زیادہ ہونے کا حوالہ دے کر زمین سونپنے کا فیصلہ سنا دیا۔‘‘ کونسل کے اس فیصلے کے خلاف ’بھارت ہندو سماج‘ نے برطانیہ کے ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔ ہندو ادارے نے کونسل کی نیت اور اس کے عمل پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ ہندو ادارے نے کہا ہے کہ ’’کونسل نے نیلامی کے دوران بولیوں کی جانچ اور اسکورنگ میں سنگین لاپروائی اور غلطیاں کیں۔ کونسل کے اراکین نے زمینی حقیقت اور اس کے سماجی اثرات کو دیکھے بغیر بند کمروں میں سفارشات کو منظوری دے دی۔‘‘ ہندو سماج کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’یہ معاملہ صرف ’سب سے اونچی بولی لگانے والے‘ کو زمین فروخت کرنے کا نہیں ہے۔ کونسل نے اس احاطے کی 40 برسوں پرانے مذہبی، ثقافتی اور سماجی کردار کو پوری طرح نظر انداز کر دیا ہے۔ اس مندر اور تہذیبی مرکز سے پیٹربرو اور اس کے قریب مقیم تقریباً 4 ہزار ہندو وابستہ ہیں۔‘‘
بتایا جاتا ہے کہ یہ مندر اس علاقے کی واحد عبادت گاہ ہے۔ اگر اسے بند کر دیا جاتا ہے تو مقامی ہندوؤں کو پوجا یا تہوار منانے کے لیے 56 کلومیٹر دور کیمبرج یا پھر 64 کلومیٹر دور لیسسٹر جانا پڑے گا۔ یہ تنازعہ صرف پیٹربرو تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے برطانیہ کی مقامی حکومت کی خستہ مالی حالت ہے۔ برطانیہ کی کئی مقامی کونسلوں کو اس وقت تاریخ کی شدید مالی مشکلات اور بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔ مرکزی حکومت سے ملنے والی مدد میں کٹوتی اور بے تحاشا اخراجات کی وجہ سے یہ کونسلیں دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہیں۔ اپنے بجٹ کو متوازن کرنے کے لیے، یہ کونسلز اب کمیونٹی ہال، کھیلوں کے مراکز، پارک اور سماجی و مذہبی کمپلیکس جیسی جائیدادیں تیزی سے فروخت کر رہی ہیں۔ پیٹربرو سے پہلے برمنگھم اور ناٹنگھم جیسی بڑی کونسلوں نے بھی اپنی مالی تنگی دور کرنے کے لیے اسی طرح کا قدم اٹھایا ہے۔