شاہی عیدگاہ-کرشن جنم بھومی تنازعہ پر سپریم کورٹ کی سماعت ملتوی، اگلی تاریخ 12 اگست مقرر
نئی دہلی: سپریم کورٹ میں متھرا کے شاہی عیدگاہ مسجد-کرشن جنم بھومی سے متعلق جاری قانونی تنازعہ کی سماعت بدھ کے روز ملتوی کر دی گئی۔ عدالت عظمیٰ اب اس معاملے کی آئندہ سماعت 12 اگست کو کرے گی۔ اس مقدمے میں نہ صرف اصل تنازع بلکہ ہندو فریق کی جانب سے دائر مختلف دعووں میں سے نمائندہ دعویٰ کے تعین کا معاملہ بھی زیر سماعت ہے۔
اس مقدمے میں یہ قانونی سوال بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ مختلف دعووں میں سے کس دعوے کو نمائندہ دعویٰ تصور کیا جائے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے پہلے دعویٰ نمبر 17 کو نمائندہ دعویٰ قرار دیا تھا، تاہم دیگر عرضی گزاروں کا مؤقف ہے کہ ان کے دعوے مختلف قانونی اور حقائق پر مبنی ہیں، اس لیے صرف ایک دعوے کو تمام مقدمات کی نمائندگی کا درجہ دینا مناسب نہیں ہوگا۔
شاہی عیدگاہ مسجد اور اس سے متصل کرشن جنم بھومی سے متعلق تنازعہ کئی برسوں سے عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد اس مقام پر تعمیر کی گئی جہاں بھگوان شری کرشن کی جائے پیدائش واقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 17ویں صدی میں مغل حکمراں اورنگ زیب کے دور میں قدیم کیشو دیو مندر کو منہدم کر کے مسجد تعمیر کی گئی تھی اور اس مقام کو شری کرشن کی جنم بھومی تصور کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب مسلم فریق مسجد کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے کا مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ مسلم فریق کے مطابق یہ معاملہ سن 1968 میں ہونے والے ایک قانونی معاہدے کے ذریعے طے ہو چکا تھا اور اس کے بعد تنازعہ کو دوبارہ اٹھانے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں ہے۔
اس مقدمے میں زمین کی ملکیت، عبادت کے حقوق اور مقام کی آثارِ قدیمہ سے متعلق جانچ جیسے اہم قانونی نکات بھی شامل ہیں، جن پر مختلف عدالتوں میں متعدد مقدمات زیر سماعت ہیں۔ اس سے قبل 5 جولائی کو شاہی عیدگاہ انتظامیہ کے سکریٹری اور وکیل تنویر احمد نے عوام سے اپیل کی تھی کہ زیر سماعت مقدمات کے سلسلے میں اشتعال انگیز بیانات سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے، اس لیے تمام فریقین کو قانون اور عدالتی عمل پر اعتماد رکھنا چاہیے۔
تنویر احمد نے یہ بھی کہا تھا کہ مسجد اور مندر کے داخلی راستے الگ الگ ہیں، مسجد میں 5 وقت کی نماز ادا کی جاتی ہے جبکہ مندر میں معمول کے مطابق پوجا پاٹھ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یہ مقام برسوں سے مذہبی ہم آہنگی کی ایک مثال رہا ہے اور جب مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہیں تو عدالتی فیصلے کا انتظار کرنا ہی مناسب طرزِ عمل ہے۔