اسپین کے جنوبی حصے کے جنگلات میں ہولناک آگ لگی ہے۔ جس کی وجہ سے کافی تباہی ہوئی ہے۔ آگ کی زد میں آ کر کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ 23 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ اسپین کی مہلک ترین جنگلاتی آگ میں سے ایک سمجھی جا رہی ہے۔ یہ آتشزدگی جمعرات کی دیر رات صوبہ المیریا میں سیئرا ڈے لاس فیلابریس کی پہاڑیوں کے قریب ایک دور دراز علاقے میں بھڑکی، جہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی شہری رہائش پذیر ہیں۔ اس وقت پورے اسپین میں شدید گرمی تھی اور خشک سالی کے سبب حالات پہلے سے ہی انتہائی خراب تھے۔ آتشزدگی میں بیشتر افراد کی اموات کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ انہوں نے گھر میں رہنے کا حکام کا مشورہ نہیں مانا تھا۔ کئی افراد اپنی کاروں میں بھاگنے لگے۔ جب کہ کچھ لوگ پیدل ہی نکل پڑے، اور کچھ لوگ خشک ندی کے راستے سے بھاگے۔ لیکن وہ راستے ان کے لیے موت کا سبب بن گئے۔
افسران کے مطابق مرنے والوں میں 4 برطانوی شہری کے ہونے کا امکان ہے، کیوں کہ ان کی جلی ہوئی کاروں میں اسٹیئرنگ دائیں جانب موجود تھی۔ جس طرح برطانیہ کی گاڑیوں میں ہوا کرتا ہے۔ 7 افراد کی موت کار چھوڑ کر پیدل بھاگنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ فی الحال آگ پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ تقریباً 150 فائر بریگیڈ ملازمین اور اسپین ملٹری ایمرجنسی یونٹ کے 220 اہلکار آگ پر قابو پانے میں مصروف تھے۔ اب تک 3200 ہیکٹر (تقریباً 7900 ایکڑ) جنگلات اور زرعی اراضی نذر آتش ہوچکی ہیں۔ علاقے کی ناہموار اور خشک زمین، جھاڑیاں، سوکھی گھاس اور تیز ہوائیں آگ پر قابو پانے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔ مسلسل جاری ہیٹ ویو کی لہروں نے پورے علاقے کو بارود کی طرح آتش گیر بنا دیا ہے۔
اسپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے بھی اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ یورپ اس وقت شدید گرمی کی زد میں ہے۔ اسپین میں حالیہ برسوں کے دوران کئی مرتبہ درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے۔ جون میں ریکارڈ گرمی کے باعث ایک ہزار سے زائد اموات درج کی گئی تھیں۔ یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے مطابق یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے، اور 1980 کی دہائی کے بعد یہاں درجۂ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دو گنا تیزی سے بڑھا ہے۔ فرانس بھی اس وقت گرمی اور جنگلات کی آگ کے خطرے سے دو چار ہے۔ وہاں کئی علاقوں میں درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔ جنوبی فرانس میں ہزاروں ہیکٹر جنگل جل چکے ہیں۔ 10 ہزار سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر بھیجنا پڑا ہے۔ فرانس کا سب سے گرم مہینہ جون ریکارڈ کیا گیا تھا۔