’ناتھورام گوڈسے اور چمپت رائے ایک جیسے ہیں‘، رام مندر چندہ چوری معاملہ پر کنہیا کمار کا تلخ تبصرہ
ایودھیا واقع رام مندر میں چندہ کی چوری کا معاملہ ہر گزرتے دن کے ساتھ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ چوری کے الزامات انہی افراد پر لگے ہیں جو چندہ اور عطیات کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے، جن میں شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے بھی شامل ہیں۔ چوری کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ہی انہیں اس عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ اب کانگریس چمپت رائے پر حملہ آور ہے۔
کانگریس کے جواں سال لیڈر کنہیا کمار نے چمپت رائے پر انتہائی تلخ تبصرہ کیا ہے۔ انھوں نے چمپت رائے کا موازنہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے سے کیا ہے۔ یہ موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس نے ناتھورام سے پلہ جھاڑ لیا تھا اور اب چمپت رائے سے بھی پلہ جھاڑ لیا ہے۔‘‘ یہ بیان انھوں نے ہفتہ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا۔
کنہیا کمار نے رام مندر چندہ چوری معاملے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’مذہب اور قانون دونوں کے مطابق رام مندر میں جو چوری ہوئی، وہ گناہِ عظیم ہے۔ ہم اس پر سیاست نہیں کریں گے، لیکن یہ معاملہ لوگوں کی عقیدت سے جڑا ہوا ہے، خاموش نہیں رہا جا سکتا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اس پورے معاملے میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے بیانات شرمناک اور تشویش ناک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عطیہ دے کر اسے بھول جانا چاہیے۔ یہ کیسے بیانات ہیں؟‘‘
آر ایس ایس پر حملہ کرتے ہوئے کنہیا کمار نے کہا کہ آر ایس ایس نے چمپت رائے سے پلہ جھاڑ لیا ہے۔ ایسے میں اس کا رجسٹریشن منسوخ ہونا چاہیے تاکہ جوابدہی طے کی جا سکے۔ کنہیا کا کہنا ہے کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ان کا ایک ہی رام ہے، ناتھورام۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’مندر میں چوری ہوئی اور حکومت اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جو ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے، اس کے بھی ایک افسر پر بدعنوانی کے معاملات ہیں۔‘‘
کنہیا کمار نے پریس کانفرنس میں ایک بڑا سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب چندہ کی چوری کا معاملہ سامنے آیا تو اسی وقت ٹرسٹ کو فوری طور پر تحلیل کیوں نہیں کیا گیا؟ انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہونی چاہیے۔ صرف چھوٹی مچھلیوں کو ہی نہیں، بڑے مگرمچھوں کو بھی پکڑا جائے۔
کانگریس لیڈر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب چوری کا معاملہ سامنے آیا، اس کے بعد سے کروڑوں روپے کا چندہ آنے لگا۔ یعنی معاملہ سامنے آنے سے پہلے روزانہ کروڑوں روپے کی چوری ہو رہی تھی۔ کنہیا کمار نے یہ بھی کہا کہ دال میں کچھ کالا نہیں، بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’کانگریس کی طرف سے ہم یقین دلاتے ہیں کہ اس معاملے کی سیاست کیے بغیر جانچ کا مطالبہ کریں گے اور ٹرسٹ کو تحلیل کرنے کا مطالبہ بھی اٹھائیں گے۔ مجھے امید ہے کہ عدالت خود اس معاملے کا نوٹس لے گی۔‘‘ آخر میں انھوں نے کہا کہ ’’ہم سیاست نہیں کریں گے۔ نظام کے اندر رہ کر نظام کو بدلنا ہی واحد راستہ ہے۔ ہم مذہبی مسائل پر نہیں، بلکہ عوام کے مسائل پر سڑکوں پر اتریں گے۔‘‘