’اگر ایران نے میرا قتل کرایا تو امریکہ ایران کو تباہ کر دے گا‘، ایران کو ٹرمپ کی دھمکی
امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو براہِ راست فوجی انتباہ دیا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایران کو وارننگ دی ہے۔ ٹرمپ نے لکھا ہے کہ اگر ایرانی حکومت دنیا کے کسی بھی حصے سے ان کے قتل یا قتل کی سازش پر عمل درآمد کرتی ہے تو امریکہ فوری جواب دے گا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ہزار میزائلیں پہلے سے ہی اسلامی جمہوریہ ایران پر نشانہ سادھے ہوئے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ہزاروں دیگر میزائلیں بھی فوراً تعینات کر دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کو پہلے ہی احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔
ضرورت پڑنے پر ایک سال تک، اور اگر ضرورت ہوئی تو اس سے بھی زیادہ عرصے تک، ایران کے ہر حصے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت اور تیاری امریکہ کے پاس موجود ہے۔ اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکہ کو سخت پیغام دیا تھا۔ قالیباف نے کہا کہ اگر امریکہ گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) سے پیچھے ہٹتا ہے تو ایران اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انڈونیشیا کی پیپلز کنسلٹیٹو اسمبلی کے اسپیکر احمد مازنی سے ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد محمد باقر قالیباف نے اپنے سرکاری ٹیلی گرام پوسٹ میں کہا کہ حالیہ امن مذاکرات کے دوران انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو صاف الفاظ میں بتا دیا تھا کہ ایران کو امریکہ پر ’’ذرہ برابر بھی اعتماد نہیں‘‘ ہے۔
قالیباف نے کہا کہ’’میری رائے میں صرف وہی ملک امریکہ سے بات چیت کر سکتا ہے، جو جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہو۔ ہم نے اپنے ملک کے دفاع کی تیاری کبھی نہیں روکی۔ جس لمحے امریکہ کسی بھی معاہدے سے پیچھے ہٹے گا، ہم مکمل دفاع کے لیے تیار ہوں گے۔ ہم پوری مضبوطی کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گے اور ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔‘‘ اس سے قبل ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک اور پوسٹ میں کہا تھا کہ ایران نے امریکہ سے بات چیت کرنے کی اپیل کی ہے، اور امریکہ اس کے لیے تیار ہے۔ لیکن اس نے ایران کو صاف کہہ دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اب جنگ بندی ختم ہوچکی ہے۔