فرضی دستاویزات سے آدیواسیوں کی زمین ہڑپنے کے معاملات کی سی بی آئی کرے جانچ: کانگریس
xنئی دہلی، 09 جولائی (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت آدیواسیوں کے جنگلات کے حقوق کی خلاف ورزی کر کے فرضی دستاویزات کی بنیاد پر ان کی زمین سرمایہ داروں اور کاروباری گروپوں کو سونپ رہی ہے۔
پارٹی نے کہا کہ ترقی کے نام پر ملک بھر میں آدیواسیوں کے جل، جنگل اور زمین کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے اور جہاں بھی اس طرح کے معاملات سامنے آتے ہیں ان کی سی بی آئی سے جانچ کرائی جانی چاہیے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے مستقل مدعو رکن کے راجو اور کانگریس کے درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے محکمے کے صدر ڈاکٹر وکرانت بھوریا نے جمعرات کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ترقیاتی پروجیکٹوں اور کان کنی کے لیے کیے جا رہے اراضی کے حصول کی منصفانہ جانچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حق معلومات (آر ٹی آئی) کے تحت حاصل کردہ دستاویزات کی بنیاد پر کانگریس ان معاملات کو عدالت میں بھی چیلنج کرے گی۔
مسٹر راجو نے الزام لگایا کہ حکومت ترقی کے نام پر آدیواسیوں کا استحصال کر رہی ہے اور ان کے آئینی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت آدیواسیوں کو ملنے والے حقوق کو نظر انداز کر کے فرضی گرام سبھاؤں کے ذریعے جنگلاتی زمین کے حصول کی اجازت دی جا رہی ہے اور اس کا فائدہ چنندہ سرمایہ داروں اور کارپوریٹ گھرانوں کو پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ہونے والی پرامن تحریکوں کو پولیس فورس کے ذریعے دبایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر بھوریا نے الزام لگایا کہ 'ووٹ چوری کے بعد اب انگوٹھا چوری' کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مدھیہ پردیش کے سنگرولی میں جن لوگوں کا برسوں پہلے انتقال ہو چکا ہے، ان کے نام پر انگوٹھے کے نشانات لگا کر اراضی کے حصول کی کارروائی دکھائی گئی۔
انہوں نے برج بھان سنگھ، جگمنڈل سنگھ، نند لال سنگھ کھیروار اور سکھاریا کھیروار سمیت کئی معاملات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام حقائق آر ٹی آئی کے ذریعے حاصل کردہ دستاویزات پر مبنی ہیں۔ ان تمام معاملات کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جانچ مکمل ہونے تک متعلقہ کان کنی اور اراضی کے حصول کے عمل پر روک لگائی جانی چاہیے۔