رام مندر میں عطیات اور چندہ کی چوری کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ ایک طرف آر ایس ایس اور بی جے پی کے سرکردہ لیڈران پورے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں، دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ خصوصاً کانگریس لگاتار اس معاملے میں آواز اٹھا رہی ہے اور آر ایس ایس-بی جے پی کو اس پورے عمل کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ رام مندر میں نذرانوں و عطیات کی ہوئی چوری نے بی جے پی-آر ایس ایس کی فطرت، کردار اور چہرہ ملک کے سامنے لا دیا ہے۔
اس معاملہ میں آج کانگریس کے سینئر لیڈر اشوک گہلوت نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’’رام مندر میں نذرانہ کی ہوئی چوری کا معاملہ ملک کے گاؤں گاؤں تک پہنچ گیا ہے۔ سبھی لوگوں میں اس واقعہ پر شدید ناراضگی ہے۔ شری رام کے ایودھیا واقع مندر سے کروڑوں لوگوں کے جذبات جڑے ہوئے ہیں، جسے بی جے پی-آر ایس ایس نے شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’بی جے پی-آر ایس ایس اور وی ایچ پی کے لوگوں نے مل کر یکطرفہ طریقے سے مندر ٹرسٹ بنایا، لیکن کسی کی کوئی جوابدہی طے نہیں کی گئی۔‘‘
اشوک گہلوت کا کہنا ہے کہ ’’بتایا جا رہا ہے انھیں نذرانہ چوری ہونے کی جانکاری بہت پہلے سے تھی، لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور باتوں کو دبا دیا گیا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’رام مندر میں ہوئی نذرانہ چوری نے بی جے پی-آر ایس ایس کی فطرت، کردار اور چہرہ ملک کے سامنے لا دیا ہے۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ ٹرسٹ کی میٹنگ میں چوری کو ’لاپروائی‘ بتایا گیا، لیکن اگر یہ صرف لاپروائی تھی تو ایف آئی آر، ایس آئی ٹی جانچ اور گرفتاریوں کی ضرورت کیوں پڑی۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’ٹرسٹ اور بی جے پی حکومت کو نذرانہ چوری معاملہ پر صاف جواب دینا چاہیے، کیونکہ اب تک صرف لیپاپوتی کی جا رہی ہے۔‘‘