Jadid Khabar

چین میں طوفانوں سے کم ازکم 15افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی

Thumb

بیجنگ، 7 جولائی (یو این آئی) سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ منگل کو چین کے بعض حصوں میں تباہ کن طوفانوں میں ہلاکتوں کی تعداد 15 تک پہنچ گئی، سینکڑوں زخمی اور 50,000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات کو منتقل کیا گیا۔  
صدر شی جن پنگ نے 'تمام ممکنہ امکانات 'کے ساتھ امدادی کارروائیاں کرنے کا حکم دیا۔  سرکاری خبررساں ایجنسی شِن ہُوا نے کہا کہ وسطی صوبہ ہوبئی میں طوفانی بارشوں اور آندھی کے باعث کم از کم 11 افراد ہلاک اور 331 زخمی ہوئے۔  شِن ہُوا کے مطابق ایک شخص لاپتہ ہے، جبکہ 4,800 مکانات کو نقصان پہنچا اور 22 مکان منہدم ہو گئے۔  
ایجنسی نے کہا کہ اس شدید موسمی پیش رفت کی خاص بات اچانک آنا اور مختصر مدت میں آنے والی شدید آندھی تھا۔  جنوبی خطے گوانگشی میں طوفان مائساک سے آنے والی شدید بارشوں اور سیلاب سے کم از کم چار افراد ہلاک  ہوئے، 50,000 سے زائد رہائشیوں کی نقل مکانی کی گئی اور آٹھ افراد لاپتہ ہو گئے۔  بند ٹوٹ گیا  گوانگشی کے دارالحکومت ناننگ میں حکام نے موسلا دھار بارشوں کے بعد ایک ذخیرہ گاہ کے بند کے ٹوٹنے پر سیلابی ہنگامی ردِعمل کی سطح کو سب سے بلند درجے تک بڑھا دیا۔  
سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کی نشر کردہ فوٹیج میں گدلا سیلابی پانی ٹوٹی ہوئی کنکریٹ دیواروں کے درمیان سے زور سے بہتا دکھائی دیا۔  سی سی ٹی وی کے مطابق شی نے امدادی کارکنوں سے ہنگامی کارروائیوں میں 'تمام ممکنہ امکانات'کو بروئے کار لانے کی ہدایت کی اور زخمیوں کے علاج، متاثرہ رہائشیوں کی منتقلی اور امدادی کوششوں کے تقویت دینے پر زور دیا۔ 
سرکاری میڈیا کی فوٹیج میں امدادی کارکن لائف جیکٹس اور ہیلمٹس پہنے بچ جانے والوں کی تلاش کرتے دکھائی دیے، جبکہ دیگر نے سیلاب زدہ علاقوں تک پہنچنے کے لیے ہوا سے بھر کر چلنے والی کشتیوں کا استعمال کیا۔ ایک دوسرے  واقعے میں منگل کی صبح شمال مغربی صوبہ گانسو کے ایک گاؤں میں مٹی کے تودے گرنے سے  33 افراد دب گئے۔ 
سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے کہا کہ 17 افراد کو بچا لیا گیا ہے مگر لرزش اراضی کی  وجہ نہیں بتائی گئی۔ مقامی حکام نے کہا کہ وہ ابھی بھی پھنسے ہوئے افراد کی تلاش، متاثرہ رہائشیوں کی منتقلی اور ثانوی آفات کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کر رہے ہیں۔ چین میں قدرتی آفات عام ہیں، خاص طور پر موسم گرما میں، جب بعض علاقوں میں شدتی بارشیں ہوتی ہیں جبکہ دوسرے علاقے سخت گرمی برداشت کرتے ہیں۔ 
سائنسدان کہتے ہیں کہ موسمیاتی بحران، جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ سے ہے، انتہائی موسمی واقعات کی تعدد اور شدت میں اضافہ کر رہا ہے۔ چین گرین ہاؤس گیسوں کا سب سے بڑا اخراج کنندہ ہے، مگر ساتھ ہی قابل تجدید توانائی میں دنیا کا سب سے بڑا سرمایہ کار بھی ہے اور اس کا ہدف 2060 تک کاربن نیوٹرل ہونا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق مئی میں وسطی اور جنوبی چین میں شدید بارشوں کے بعد کم از کم 22 افراد ہلاک ہوئے تھے، بعض مقامات پر یہ ریکارڈ شدہ سب سے زیادہ بارش تھی۔