Jadid Khabar

جلال آباد اب ہوا پرشورام پوری، یوگی حکومت کا ناموں کی تبدیلی کا سلسلہ جاری

Thumb

 
لکھنؤ: اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے شاہجہانپور ضلع کے تاریخی قصبے جلال آباد کا نام تبدیل کرکے پرشورام پوری رکھنے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ ریاستی کابینہ نے پیر کے روز اس تجویز کی توثیق کی، جس کے بعد نام کی تبدیلی کی سرکاری کارروائی مکمل ہونے کی راہ ہموار ہو گئی۔ اس سے قبل مرکزی وزارت داخلہ اس تجویز پر عدم اعتراض ظاہر کر چکی تھی۔
ریاستی حکومت کے مطابق جلال آباد کو ہندو روایت میں بھگوان پرشورام کی جنم بھومی کے طور پر مانا جاتا ہے اور یہاں ان سے منسوب ایک قدیم مندر بھی موجود ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اسی تاریخی اور مذہبی نسبت کی بنیاد پر شہر کا نام پرشورام پوری رکھنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ یہ تجویز پہلے مقامی بلدیہ نے منظور کی، بعد ازاں ریاستی حکومت نے اسے مرکزی وزارت داخلہ کو بھیجا، جہاں سے منظوری ملنے کے بعد ریاستی کابینہ نے اسے حتمی شکل دے دی۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق جلال آباد تقریباً 1560 میں آباد ہوا تھا اور اس کا نام مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے نام پر رکھا گیا تھا۔ کئی دہائیوں تک یہ قصبہ اسی نام سے جانا جاتا رہا، تاہم اب سرکاری طور پر اسے پرشورام پوری کے نام سے شناخت دی جا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین اس فیصلے کو یوگی حکومت کی اس پالیسی کا تسلسل قرار دیتے ہیں، جس کے تحت گزشتہ چند برسوں میں ریاست کے متعدد شہروں، قصبوں، ریلوے اسٹیشنوں اور دیگر عوامی مقامات کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل الہ آباد کا نام پریاگ راج، فیض آباد کا نام ایودھیا اور مغل سرائے کا نام پنڈت دین دیال اپادھیائے نگر رکھا جا چکا ہے۔ ریاستی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد قدیم تہذیبی، تاریخی اور مذہبی شناخت کو نمایاں کرنا ہے۔
جلال آباد کے نام کی تبدیلی کے فیصلے پر پیلی بھیت سے رکن پارلیمان اور مرکزی وزیر مملکت جتن پرساد نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے سناتن روایت کے لیے اہم فیصلہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس اقدام سے بھگوان پرشورام سے منسوب تاریخی شناخت کو مزید تقویت ملے گی۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں اور بعض سماجی حلقے ماضی میں اس نوعیت کے فیصلوں پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ناموں کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں جیسے عوامی مسائل پر بھی یکساں توجہ دینی چاہیے۔ تاہم ریاستی حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ تاریخی اور ثقافتی اہمیت رکھنے والے مقامات کی قدیم شناخت کو نمایاں کرنا بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔