بندوق سیفٹی ایکٹ: ٹرمپ انتظامیہ نے کیلیفورنیا اور ورجینیا پر کیا مقدمہ
ٹرمپ انتظامیہ نے یکم جولائی کو کیلیفورنیا اور ورجینیا ریاستوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ یہ معاملہ ان نئے قوانین سے وابستہ ہے، جو سیمی آٹومیٹک ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف نے وفاقی عدالت میں 2 مخلتف مقدمے دائر کیے ہیں۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ یہ قانون امریکی آئین کی دوسری ترمیم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ کارگزار اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے ورجینیا کے خلاف مقدمہ کا اعلان کرتے ہوئے سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کوئی تجویز نہیں ہے۔ ان کے مطابق ہتھیاروں کا اختیار کوئی چھوٹا یا دوسرے درجے کا اختیار نہیں ہے۔ محکمہ انصاف کے مطابق ریاستوں کی نئی پالیسیاں عوام کے آئینی حقوق کو چھین رہی ہیں۔
ورجینیا کے ڈیموکریٹک گورنر ابیگیل اسپینبرگر نے اس سال ایک خاص قانون پر دستخط کیا تھا۔ یہ قانون کچھ مخصوص قسم کے سیمی آٹومیٹک ہتھیاروں کی فروخت اور اس کے تیار کیے جانے پر پابندی عائد کرتا ہے۔ یہ قانون یکم جولائی سے ہی نافذ ہوا ہے۔ اس کے خلاف پہلے سے چار دیگر مقدمے چل رہے ہیں۔ دوسری طرف کیلیفورنیا کا قانون ان ہینڈگن کی فروخت پر پابندی عائد کرتا ہے، جنہیں آسانی سے آٹومیٹک بنایا جا سکتا ہے۔ محکمہ انصاف کے مطابق اس قانون کی وجہ سے امریکہ میں سب سے مقبول ’گلاک‘ پستول کی فروخت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مقدمہ کیلیفورنیا میں ہینڈگن کی فروخت پر عائد دیگر پابندیوں کو بھی چیلنج کرتا ہے۔
دونوں ریاستوں کے اٹارنی جنرل نے اپنے قانون کو درست قرار دیا ہے۔ ورجینیا کے اٹارنی جنرل جے جونس کے دفتر نے کہا ہے کہ یہ پابندی عوام اور پولیس کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ کیلیفورنیا کے افسران کا دعوی ہے کہ ان کا گن سیفٹی ایکٹ آئینی ہے اور ریاست میں گولا باری سے ہونے والی اموات میں کمی آئی ہے۔ امریکہ میں گن سیفٹی ایکٹ کے تعلق سے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن ریاستوں کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے امریکی سپریم کورٹ نے منگل کے روز ایک بڑے معاملے کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت اس پہلو پر غور و فکر کرے گی کہ سیمی آٹومیٹک رائفلوں پر پابندی عائد کرنا قانونی ہے یا نہیں۔ اس معاملے پر سال کے آخر میں بحث ہونے کی امید ہے۔