کیف پر روس نے بیلسٹک میزائلوں سے کیا حملہ، یوکرین میں افرا تفری کا ماحول، پولینڈ میں الرٹ
روس نے ایک بار پھر یوکرین پر حملہ کر دیا ہے۔ جمعرات کی صبح یوکرین کی راجدھانی کیف کو ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ گزشتہ مہینوں کی بہ نسبت بڑا حملہ مانا جا رہا ہے۔ آدھی رات کو شروع ہوئے اس حملے کے بعد پورے کیف میں ایئر ریڈ سائرن بجنے لگے اور ہزاروں لوگوں نے اپنی جان بچانے کے لیے میٹرو اسٹیشنوں اور بنکروں میں پناہ لی۔ راجدھانی کیف کے مختلف علاقوں میں مسلسل دھماکوں کی آوازیں آرہی ہیں۔ یوکرین کا ایئر ڈیفنس سسٹم پوری رات روسی ڈرون اور میزائلوں کو روکنے کی کوشش کرتا رہا۔ اس دوران پولینڈ میں بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
کیف کے میئر ویتالی کلیچکو نے بتایا کہ شہر پر ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں سے مسلسل حملہ کیا گیا ہے۔ حملے کی وجہ سے رہائشی علاقوں کا بھی کافی نقصان ہوا ہے۔ اس حملہ میں ایک 9 منزلہ اپارٹمنٹ کا حصہ منہدم ہو گیا، جس کی وجہ سے کئی افراد کے ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو ٹیم نے راحت رسانی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ایک ایمبولنس اسٹیشن بھی حملے کی زد میں آیا ہے۔ شروعاتی اطلاعات کے مطابق تقریباً 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ ہے
یوکرین کے صدر ولودمیر زیلنسکی نے بتایا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے پہلے ہی بڑے حملے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے آئرلینڈ کا دورہ نہیں کیا اور یوکرین واپسی کا فیصلہ کیا۔ روس کے اس حملے کا اثر یوکرین کی سرحدوں کے باہر بھی دیکھنے کو ملا۔ ناٹو کے رکن پولینڈ نے اپنے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ پولش فوج نے ایف 16 جنگی طیاروں کو پرواز کرنے کا حکم دیا ہے اور ایئر ڈیفنس سسٹم و رڈار یونٹس کو ہائی الرٹ پر تعینات کر دیا ہے۔ پولینڈ نے کہا ہے کہ یہ قدم یوکرین کے سرحدی علاقوں کی حفاظت کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔