آپریشن سندور: شہید 6 فوجی جوانوں کے نام آئے سامنے، مرکزی حکومت نے پہلی بار جاری کی جانبازوں کی فہرست
حکومت نے پہلی بار باضابطہ طور پر ہندوستانی فوج کے اُن 6 جانبازوں کے ناموں کا انکشاف کیا ہے جو آپریشن سندور کے دوران ملک کے لیے جاں نثار ہو گئے تھے۔ گزشتہ سال مئی میں پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے یہ سرحد پار فوجی کارروائی شروع کی گئی تھی۔ ان 6 شہیدوں کے نام ’نیشنل وار میموریل‘ کی ویب سائٹ پر ’رول آف آنر‘ سیکشن میں شائع کیے گئے ہیں اور نئی دہلی میں واقع ’نیشنل وار میموریل‘ پر بھی انہیں درج کیا گیا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ حکومت نے اس آپریشن کے دوران ہندوستانی مسلح افواج کو ہونے والے جانی نقصان کو عوامی اور سرکاری سطح پر تسلیم کیا ہے۔
’نیشنل وار میموریل‘ کی ویب سائٹ کے مطابق ان شہیدوں کے نام یادگار کی وال 3 ڈی پر 2025 کے حصہ میں کندہ کیے گئے ہیں، جو اُن فوجی اہلکاروں کے لیے مخصوص ہے جنہوں نے ملک کی خدمت میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ملک کے لیے عظیم ترین قربانی دینے والے ان 6 جانبازوں میں ہیڈکوارٹر 10 انفنٹری بریگیڈ کے صوبیدار میجر پون کمار، 4 جموں و کشمیر لائٹ انفنٹری کے رائفل مین سنیل کمار (ویر چکر)، 5 فیلڈ رجمنٹ کے لانس نائک دنیش کمار، 851 لائٹ رجمنٹ کے ایوی ایشن ٹیکنیشن موڈ مرلی نائک، 237 فیلڈ ورکشاپ کمپنی کے حولدار سنیل کمار سنگھ اور سارجنٹ سریندر کمار، وایو سینا پدک (39 ونگ) شامل ہیں۔
مئی 2025 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 4 روز تک جاری رہنے والے اس تصادم کے دوران فوجی نقصانات سے متعلق مختلف خبریں اور قیاس آرائیاں سامنے آ رہی تھیں۔ تاہم اب تک حکومت نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہونے والے اہلکاروں کی شناخت کا سرکاری طور پر انکشاف نہیں کیا تھا۔ نیشنل وار میموریل کے ’رول آف آنر‘ میں ان ناموں کی اشاعت کے بعد اب اس کی باضابطہ تصدیق ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ آپریشن سندور کا آغاز 7 مئی 2025 کی علی الصبح کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے اُس دہشت گردانہ حملے کے چند ہفتے بعد کی گئی تھی جس میں 26 شہری ہلاک ہو گئے تھے، جن میں زیادہ تر سیاح شامل تھے۔ اس مہم کے تحت ہندوستانی مسلح افواج نے پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے 9 ٹھکانوں پر انتہائی درست حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں بنیادی طور پر جیش محمد اور لشکر طیبہ سے وابستہ دہشت گردی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) کے درمیان بات چیت ہوئی اور 10 مئی کو فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق کیا گیا۔