ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن کو ترنمول کانگریس کی نئی ورکنگ کمیٹی کی فہرست بھیجی
کولکاتہ، 23 جون (یو این آئی) ترنمول کانگریس کے اندر جاری طاقت کی لڑائی کے درمیان، پارٹی سربراہ ممتا بنرجی نے ورکنگ کمیٹی کی ایک نئی ترمیم شدہ فہرست الیکشن کمیشن کو بھیجی ہے۔
ذرائع کے مطابق 22 جون کی تاریخ والی اس فہرست کو اسی دن نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے سامنے جمع کرایا گیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ محترمہ بنرجی کا یہ قدم یہ واضح پیغام دینے کے لیے ہے کہ پارٹی کی تنظیم پر ان کا کنٹرول پوری طرح قائم ہے۔
یہ واقعہ اسی دن سامنے آیا جب ریتبرت بنرجی کی قیادت والے ایک باغی دھڑے نے اپنی ایک الگ ورکنگ کمیٹی کا اعلان کر دیا۔ اس باغی دھڑے کے نئے ڈھانچے سے ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی دونوں کو باہر رکھا گیا ہے۔ باغیوں کے گروپ نے سابق وزیر اور ایم ایل اے اروپ رائے کو اپنا چیئرمین مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایم ایل اے فرہاد حکیم اور رتھن گھوش کو نائب صدر، جبکہ ریتابرت بنرجی، جاوید خان، سندیپن ساہا اور سبینا یاسمین کو جنرل سکریٹری بنایا گیا ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ محترمہ بنرجی نے اپنی فہرست باغی دھڑے کے اعلان سے پہلے جمع کی تھی یا اس کے بعد۔ ان کی ترمیم شدہ فہرست میں خود انہیں صدر اور ابھیشیک بنرجی کو قومی جنرل سکریٹری کے عہدے پر برقرار رکھا گیا ہے۔
حال ہی میں ختم ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی مایوس کن کارکردگی اور بغاوت کے خدشے کو دیکھتے ہوئے محترمہ بنرجی نے 5 جون کو ایک نئی ورکنگ کمیٹی بنائی تھی، لیکن پچھلے کچھ دنوں میں مساوات بالکل بدل چکی ہے۔ اس کمیٹی میں شامل سابق وزیر جیوتی پریا ملک نے گزشتہ ہفتے صحت کی وجوہات کی بنا پر تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہیں، یوتھ ونگ کی صدر بنائی گئیں سایونی گھوش اور ویمن ونگ کی صدر مالا رائے اب باغی دھڑے کے ساتھ چلی گئی ہیں۔ ان دونوں ارکانِ پارلیمنٹ (ایم پیز) نے باضابطہ طور پر ایک نئی پارٹی 'راشٹروادی ناگرک پارٹی' کی رکنیت لے لی ہے۔
محترمہ بنرجی کی نئی ترمیم شدہ کمیٹی سے باغی خیمے میں جانے والے ان تمام ارکان کو باہر کر دیا گیا ہے۔ نئی کمیٹی میں ندیم الحق کو جگہ دی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں سبرت بخشی کو نائب صدر، ڈیریک او برائن اور ڈولا سین کو جوائنٹ سکریٹری جبکہ چندریما بھٹاچاریہ کو ریاستی صدر کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
اس درمیان ریاست کے سابق وزیر اروپ بسواس نے خزانچی کی حیثیت سے بینک حکام کو خط لکھ کر ترنمول کانگریس کے کھاتوں سے مالیاتی لین دین پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ پیر کو باغی دھڑے کی میٹنگ میں بھی نظر آئے تھے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ 5 جون کو بننے والی فہرست پہلے الیکشن کمیشن کو بھیجی گئی تھی یا نہیں، یا پھر اس نئی فہرست کو ہی براہِ راست بنیادی دستاویز کے طور پر جمع کیا گیا ہے۔
دونوں دھڑوں کی جانب سے الگ الگ دعوے سامنے آنے کے بعد اب سب کی نظریں الیکشن کمیشن پر ٹکی ہیں کہ وہ کس کمیٹی کو پارٹی کا آفیشل اور قانونی ڈھانچہ تسلیم کرتا ہے۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ پارٹی کے کنٹرول کی یہ لڑائی الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد بالآخر عدالت کی دہلیز تک پہنچ سکتی ہے۔