Jadid Khabar

مہاراشٹر میں لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی، بجلی کی بڑھتی طلب کا کامیابی سے انتظام کیا گیا: دیویندر فڑنویس

Thumb

ممبئی ، 23 جون  (یو این آئی)   مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ریاست میں لوڈشیڈنگ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مہاراشٹر میں کسی بھی دن سرکاری یا منصوبہ بند لوڈشیڈنگ نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کا کامیابی کے ساتھ انتظام کیا ہے اور حالیہ تکنیکی خرابیوں کے باوجود ریاست میں بجلی کی مجموعی فراہمی متاثر نہیں ہونے دی گئی۔
 
ریاستی اسمبلی کے جاری مانسون اجلاس کے دوران کانگریس رکن اسمبلی ہیمنت اوگلے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بعض تھرمل پاور پروجیکٹس میں تکنیکی مسائل ضرور پیش آئے تھے، لیکن حکومت نے فوری اقدامات کرتے ہوئے بجلی کی فراہمی برقرار رکھی۔
 
فڑنویس نے ایوان کو بتایا کہ کوراڈی کے 660 میگاواٹ صلاحیت والے یونٹ سمیت ناسک کے بعض بجلی گھروں میں 12 تا 13 جون اور 17 تا 19 جون کے درمیان عارضی تکنیکی خرابیاں پیدا ہوئی تھیں۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے درمیانی مدت کے بجلی خریداری معاہدوں اور کوئنا آبی بجلی منصوبے سے اضافی بجلی کوٹے کا استعمال کیا۔
 
ریاست کے بعض علاقوں میں بجلی منقطع ہونے کی شکایات پر وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ زرعی فیڈروں سے گھریلو کنکشنز کا جڑا ہونا ہے، جبکہ دوسری وجہ بعض مقامات پر ٹرانسفارمروں کی خرابی ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ''فیڈر سیپریشن اسکیم'' کے تحت 75 فیصد کسانوں کو دن کے وقت بجلی فراہم کی جا رہی ہے، تاہم بعض گھریلو صارفین اب بھی زرعی فیڈروں سے منسلک ہیں۔ جب زرعی لائنیں بند کی جاتی ہیں تو ان گھروں میں بھی بجلی منقطع ہو جاتی ہے، جسے لوگ لوڈشیڈنگ سمجھ لیتے ہیں۔
 
ٹرانسفارمروں کی خرابی کے حوالے سے فڑنویس نے کہا کہ بجلی کی طلب میں اچانک اضافے کے باعث بعض مقامات پر آلات متاثر ہوئے تھے، لیکن فوری مرمت اور پیشگی دیکھ بھال کے ذریعے صورتحال کو جلد قابو میں لے لیا گیا۔
 
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ رواں سال مہاراشٹر نے 32 ہزار میگاواٹ کی ریکارڈ بلند ترین بجلی طلب کو کامیابی سے پورا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ پانچ برسوں میں ریاست میں بجلی کی طلب 45 ہزار میگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر بجلی کی پیداوار، خریداری اور تقسیم کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی پہلے ہی شروع کر دی گئی ہے۔
 
فڑنویس نے اپوزیشن کی جانب سے ریاست میں بجلی بحران کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی کے شعبے میں مؤثر اور طویل مدتی منصوبہ بندی پر کام کر رہی ہے۔