کوٹا انتظامیہ پر بھڑکے اشوک گہلوت، راہل گاندھی کے تشہیری مواد پر مشتمل ہورڈنگ ہٹانے کا الزام
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی ملک میں تعلیمی نظام سے متعلق مسائل پر طلبا کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لیے ایک خاص مہم شروع کرنے والے ہیں۔ اس ملک گیر مہم کا آغاز آج راجستھان کے شہر کوٹا سے ہونے والا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کانگریس کے سینئر لیڈر سے بات چیت کو لے کر طلبا میں زبردست جوش ہے، لیکن اس سلسلے میں ریاستی کانگریس کے لیڈر نے انتظامیہ کے رویے پر تنقید کی ہے۔
راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے الزام لگایا ہے کہ کوٹا انتظامیہ راہل گاندھی اور طلبا کے درمیان ہونے والے مجوزہ انٹریکٹیو پروگرام سے متعلق ہورڈنگ ہٹا رہی ہے۔ گہلوت نے دعویٰ کیا کہ جب سابقہ کانگریس حکومت کے وقت بی جے پی کے پروگرام کے ہورڈنگ لگائے جاتے تھے تو انتظامیہ تعاون کرتی تھی، لیکن اب بی جے پی حکومت راہل گاندھی کے پروگرام سے متعلق تشہیری مواد ہٹا رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی پروگرام کو لے کر حکمراں بی جے پی کی گھبراہٹ کو ظاہر کرتی ہے اور اسے ایک سیاسی سازش بتایا۔ اشوک گہلوت نے کہا کہ ’’کوچنگ اداراوں پر دباؤ ڈالا گیا ہے اور طلبا کو پروگرام میں شامل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہورڈنگ ہٹانے سے طلبا کی آواز نہیں دبے گی اور دعویٰ کیا کہ بدھ کے روز کوٹا میں ہونے والے پروگرام میں بڑی تعداد میں طلبا کے شامل ہونے کی امید ہے۔
مسابقتی امتحانات میں دھاندلی، نیٹ پیپر لیک اور تعلیمی نظام سے متعلق مسائل پر کانگریس اب طلبا کے ساتھ بات چیت کے لیے ملک گیر مہم شروع کرنے جا رہی ہے۔ اس مہم کا پڑاؤ ملک کی کوچنگ نگری کوٹا بنے گا جہاں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی 17 جون کو طلبا کے ساتھ براہ راست مکالمہ کریں گے۔ یہ پروگرام کانگریس کی اس مہم کا حصہ ہے جو مقابلہ جاتی امتحانات سے متعلق مسائل پر مرکوز ہے جس میں مبینہ نیٹ پیپر لیک کا معاملہ بھی شامل ہے۔