ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اور مرکز برائے عوامی سفارت کاری کے سربراہ اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں امریکی حملوں کے سبب ہندوستانی ملاحوں کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جاں بحق ہونے والے ہندوستانی ملاحوں کے اہل خانہ اور ان کے دوستوں کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کرتا ہے اور ہندوستانی عوام و حکومت ہند سے دلی تعزیت پیش کرتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں امریکہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے امریکہ کی مبینہ مسلح لوٹ مار اور ریاستی بحری قزاقی کی جاری پالیسی کی واضح مثال ہیں۔ ان کے مطابق ایسی کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور بحری سلامتی کے اصولوں کے منافی ہیں۔ بقائی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری کو امریکہ کے مبینہ غیر قانونی طرز عمل پر اسے جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔ اس قسم کی سرگرمیاں عالمی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کرتی ہیں اور سمندری راستوں پر محفوظ و آزادانہ آمد و رفت کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
واضح رہے کہ عمان کے ساحل کے قریب جس تجارتی جہاز پر امریکی حملے کا دعویٰ کیا گیا، اس میں عملہ کے 24 ہندوستانی اراکین سوار تھے۔ جہاز پر موجود 21 ہندوستانیوں کو بحفاظت بچا لیا گیا، جبکہ 3 ہندوستانی لاپتہ بتائے گئے تھے۔ بعد ازاں لاپتہ افراد میں سے 2 کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔ اب تک لاپتہ چیف انجینئر پٹانالا سریش کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے زندہ ملنے کی امید اب بہت کم بتائی جا رہی ہے۔ اس واقعہ کے بعد حکومت ہند نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے نئی دہلی میں امریکی سفارت کار کو ایک باضابطہ احتجاجی مراسلہ ارسال کیا ہے۔