Jadid Khabar

فاروق عبداللہ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی سے پی او کے کی صورتحال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا

Thumb

سری نگر، 11 جون (یواین آئی) نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (پی او کے) کی صورتحال کی تحقیقات کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ علاقے میں جاری بے چینی کے دوران وہاں کے لوگ شدید جبر و استبداد کا سامنا کر رہے ہیں۔
سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ ریاست مشکلات سے دوچار ہے۔ اس کا ایک حصہ پاکستان کے قبضے میں ہے جہاں لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ وہاں کئی افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ وہاں سے آنے والی خبریں پوری طرح واضح نہیں ہیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور لوگ اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ اس علاقے کا دورہ کرے اور زمینی حالات کا جائزہ لے۔ انہوں نے کہاکہ "میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ وہاں جائے اور دیکھے کہ لوگوں کو کس قسم کے مسائل کا سامنا ہے تاکہ ہمیں اور پوری دنیا کو معلوم ہو سکے کہ وہ کن مشکلات سے گزر رہے ہیں۔"
سابق وزیرِ اعلیٰ عبداللہ نے مزید کہا کہ بین الاقوامی ادارے کو موجودہ حالات کی تحقیقات کرنی چاہئیں اور وہاں کے لوگوں کے خدشات دور کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔
حال ہی میں پی او کے میں بڑے پیمانے پر بے چینی دیکھنے میں آئی جب حکام نے "جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی" پر پابندی عائد کر دی اور اس کے اراکین کے خلاف کارروائیاں تیز کر دیں۔ اطلاعات کے مطابق ان احتجاجی مظاہروں اور بعد میں ہونے والی جھڑپوں میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس تنقید کے جواب میں کہ نیشنل کانفرنس عوامی شکایات کے ازالے میں ناکام رہی ہے، فاروق عبداللہ نے کہا کہ پارٹی محدود اختیارات کے ساتھ مشکل حالات میں کام کر رہی تھی۔