میناکشی نٹراجن کا نامزدگی فارم منسوخ ہونے کے معاملے پر جمعہ کو سماعت کرے گا سپریم کورٹ
نئی دہلی، 11 جون (یو این آئی) سپریم کورٹ نے کانگریس لیڈر میناکشی نٹراجن کی اس رٹ پٹیشن پر جمعہ کو سماعت کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، جس میں مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا انتخاب کے لیے ان کا نامزدگی فارم مسترد کیے جانے کو چیلنج کیا گیا ہے۔
سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی کی جانب سے معاملے پر فوری سماعت کی درخواست کے بعد جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس اے ایس چاندورکر کی بنچ اس معاملے کو جمعہ کو سماعت کے لیے فہرست بند کرنے پر متفق ہو گئی۔
مسٹر سنگھوی نے درخواست کی کہ اس پٹیشن پر جمعرات یا جمعہ کو غور کیا جائے کیونکہ جمعرات نامزدگی واپس لینے کا آخری دن تھا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے عدالت سے نتائج کے اعلان پر روک لگانے کا ایک عبوری حکم جاری کرنے کی بھی اپیل کی۔
محترمہ نٹراجن کی طرف سے پیش ہوئے مسٹر سنگھوی نے دلیل دی کہ ان کا نامزدگی فارم اس بنیاد پر مسترد کیا گیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر ایک مجرمانہ معاملے کا انکشاف کرنے میں ناکام رہیں، جبکہ ان کا موقف تھا کہ اس معاملے میں ابھی تک کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ہے اور انہیں صرف بھارتیہ ناگرک سُرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 223 کے تحت نوٹس سے قبل کا سمن دیا گیا تھا۔
عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 33 اے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ امیدواروں کے لیے صرف انہی مجرمانہ معاملات کا انکشاف کرنا ضروری ہوتا ہے جن میں عدالت نے نوٹس لے لیا ہو۔ پٹیشن کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے جسٹس مشرا نے تبصرہ کیا کہ عدالتیں عام طور پر عبوری مرحلے میں انتخابی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی ہیں، جس کے جواب میں مسٹر سنگھوی نے دلیل دی کہ انتہائی واضح اور سنگین غلطیوں والے معاملات میں عدالتی مداخلت کی اجازت ہے۔ حریف امیدوار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی نے اس پٹیشن کی مخالفت کی اور الیکشن کمیشن کی نمائندگی کر رہے سینئر ایڈوکیٹ دما شیشادری نائیڈو نے بھی اسی طرح کے اعتراضات اٹھائے۔ دونوں فریقین کو سننے کے بعد بنچ اس معاملے کو جمعہ کو سماعت کے لیے درج کرنے پر راضی ہو گئی۔
رپورٹوں کے مطابق محترمہ نٹراجن کا نامزدگی فارم ان الزامات کے بعد مسترد کر دیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے نامزدگی کاغذات داخل کرتے وقت تلنگانہ میں ان کے خلاف زیر التوا ایک مجرمانہ معاملے کی تفصیلات کو چھپایا تھا۔