نفرتی سیاست اور مسلمانوں کی شہریت چھیننے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار
نئی دہلی،8/جون(جدید خبر )
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (رجسٹرڈ)نے بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں گرم نفرتی سیاست اور ایس آئی آر کے بہانے مسلمانوں کی شہریت ختم کرنے کی کوششوں کی سخت مذمت کی ہے۔مشاورت نے مسجدوں اور مزاروں کے مسلسل انہدام پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کی مذہبی اور ثقافتی شناخت مٹانے کی منظم ساز ش قرار دیا ہے۔ آج یہاں نیوہورائزن اسکول میں منعقدہ جنرل باڈی اجلاس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے ارکان مشاورت کی موجودگی میں کئی اہم قرادادیں پاس ہوئیں اور کہا گیا کہ اگر یونہی ملک میں نفرت کی ہوائیں چلتی رہیں اور بنیادی مسائل سے چشم پوشی کا رویہ برقراررہاتو ملک کی یکجہتی اور فرقہ وارانہ اتحاد کو شدید نقصان پہنچے گا۔ جنرل باڈی میٹنگ کی صدارت سابق ممبر پارلیمنٹ محمد ادیب نے کی اور اس میں مشاورت کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں،ڈاکٹر سید فاروق، پروفیسر محمد سلیمان، کمال فاروقی، اور مفتی عطاء الرحمن قاسمی سمیت متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی جبکہ اجلاس کی کارروائی جنرل سیکریٹری معصوم مرادآبادی نے چلائی۔
جنرل باڈی اجلاس میں پاس شدہ قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ ملک میں نفرت کی سیاست عرصے سے چل رہی ہے، لیکن گزشتہ بارہ برس میں اس میں غیر معمولی اضافہ درج ہوا ہے۔ لنچنگ اور نفرت کے جرائم عام ہوگئے ہیں۔ ان حالات میں مشاورت نے مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صبر وحکمت کے ساتھ اس امتحان کو برداشت کریں اور شرپسند عناصر کو فسادات برپا کرنے کا موقع نہ دیں۔ اس کے ساتھ ہی مسلمان غیر مسلم برادران وطن کے ساتھ اپنے رشتوں کو مضبوط کریں جس سے نفرت کا طوفان تھم سکتا ہے۔قرارداد میں اتردیش سرکار کی انکاؤنٹر پالیسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کے تحت بیشتر کارروائیاں صرف مسلمانوں کے خلاف ہورہی ہیں۔
ایک قرارداد میں موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے نوجوان طبقہ میں پھیلی ہوئی شدید بے چینی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا گیا ہے بدعنوانی، فریب دہی، مہنگائی، معاشی بدحالی، بے روزگاری، منافرانہ سیاست اور ووٹ چوری سے عوام عاجز آچکے ہیں اور حال ہی میں نوزائیدہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘کے نام سے جو تحریک شروع ہوئی ہے، وہ عوامی ناراضگی کا اظہار ہے۔ مشاورت اس کی تائید کرتی ہے۔
مشاورت نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر)کو مسلمانوں کو رائے دہندگی سے محروم کرنے کی منظم ساز ش قرار دیتے ہوئے کہ اس کا براہ راست اثر مسلمانوں کے شہری حقوق پرپڑے گا اور اس کا سب سے بڑا ثبوت مغربی بنگال کے حالیہ انتخابات میں لاکھوں مسلمانوں کو رائے دہندگی سے محروم کرنے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔قرارداد میں کہا گیا ہے ایس آئی آر کے شکار تمام مسلمانوں اور مقامی تنظیموں کو پوری کوشش کرنی چاہئے کہ ٹرائبو نلز میں شکایت درج کراکے اپنے ناموں کو دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کروائیں۔
بین الاقوامی امور سے متعلق قراداد میں ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ اور جوبی لبنان میں اسرائیلی جارحیت درحقیقت گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو بروئے کار لانے کے لیے کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عرب ملکوں سے اپیل کی گئی ہے وہ ’ابراہیمی معاہدے‘ کو مکمل طورسے رد کردیں کیونکہ یہ خطہ میں اسرائیلی چودھراہٹ قائم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا۔ اس سلسلہ میں حکومت ہند کی اسرائیل نواز پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے یہ درحقیقت ہندوستان کی برسوں پرانی ناوابستہ پالیسی اور فلسطینی کاز کے سراسر منافی ہے۔جنرل باڈی میٹنگ کے دیگر اہم شرکاء میں مشاورت کے خزانچی شمس الضحیٰ، فیروز احمد غازی ایڈووکیٹ، مولانا ابرار احمد مکی، محمد وزیرانصاری اور خالد محمد خاں (بھوپال)حافظ منظور علی خاں (جے پور)ڈاکٹر عبید اقبال عاصم (علی گڑھ)ڈاکٹر حامد حسین (اڑیسہ)شاہد شیح (ممبئی) وسیع احمد ایڈووکیٹ (بریلی)کوثر عثمان (لکھنؤ) پروفیسر عبدالقیوم انصاری، ڈاکٹر سید احمد خاں، شبیہ احمد، خالد احمدخاں،پروفیسر عباس علی مہدی، ایس ایم نوراللہ کے نام قابل ذکر ہیں۔زوم کے ذریعہ شرکت کرنے والوں میں سیدتحسین احمد، سہیل انجم، شاہد شریف (ممبئی)اخلاق حسین چشتی(کانپور)شاہد سلیم (جموں)گروپ کیپٹن ایم نور (گڑگاؤں) شامل ہیں۔