Jadid Khabar

’بی جے پی میں ضم ہو سکتی ہے عام آدمی پارٹی‘، انڈیا بلاک کی میٹنگ سے عین قبل ادت راج کا سخت تبصرہ

Thumb

 
دہلی میں انڈیا بلاک کی میٹنگ میں عام آدمی پارٹی (عآپ) اور دراوڈ منیترا کژگم (ڈی ایم کے) شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں سیاسی پارٹیوں کے اس فیصلے پر کانگریس لیڈر ادت راج کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ آج نہیں تو کل عام آدمی پارٹی بی جے پی میں ضم ہو جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’میٹنگ میں شامل نہ ہونے پر انہیں ہی نقصان ہوگا اور وہ کمزور پڑیں گے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ڈی ایم کے کمزور ہو۔ اگر وہ انڈیا بلاک کا حصہ نہیں رہتے ہیں تو 2 صورتحال بن سکتی ہیں یا تو وہ غیر جانبدار رہیں یا پھر بی جے پی کی حمایت کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھیں : انڈیا بلاک کی میٹنگ آج، راہل، ممتا، اکھلیش سمیت کئی سینئر لیڈران کی ہوگی شرکت، تھلاپتی وجئے کی پارٹی ’ٹی وی کے‘ کی انٹری
کانگریس لیڈر ادت راج کے مطابق غیر جانبدار رہنا بھی ایک طرح سے بی جے پی کی حمایت کرنا جیسا ہوگا، کیونکہ اس سے انڈیا بلاک کمزور ہوگا۔ نظریاتی طور پر ڈی ایم کے اور بی جے پی کے درمیان بالکل بھی ہم آہنگی نہیں ہے۔ اس لیے ہمار اب بھی ماننا ہے کہ اگر وہ آئین اور ریزرویشن کو بچانا چاہتے ہیں تو انہیں اتحاد کا حصہ بنے رہنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریزرویشن سماجی انصاف کا ایک اہم مسئلہ ہے اور تمل ناڈو میں اس پارٹی کی بنیاد بھی سماجی انصاف کے اصولوں پر رکھی گئی تھی۔
عام آدمی پارٹی کے حوالے سے کانگریس لیڈر ادت راج نے کہا کہ ’’جہاں تک عام آدمی پارٹی کا سوال ہے تو وہ اندرونی تضادات سے نبردآزما ہے۔ پنجاب سے جو رپورٹیں آ رہی ہیں انہیں دیکھیے۔ مستقبل میں اگر پارٹی کمزور ہو جاتی ہے تو ممکن ہے کہ اس کا بی جے پی میں انضمام ہو جائے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ انڈیا بلاک کی میٹنگ میں 2029 کے لوک سبھا انتخابات کو دھیان میں رکھتے ہوئے اتحاد کے مستقبل کی سمت اور مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ اتحاد کے لیڈران مستقبل کی سیاسی اور انتخابی جنگ کے لیے اتحاد کو مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ اس میں خاص طور پر اگلے سال ہونے والے اتر پردیش اسمبلی انتخابات پر گہرائی سے بات چیت ہونے کا قومی امکان ہے۔ اس دوران ’انڈیا‘ کی دو اہم پارٹیاں سماجوادی اور کانگریس کے درمیان الگ سے اتحاد اور اس کے فارمولے پر بات چیت کئے جانے کا امکان ہے۔