نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی بھوپیندر یادو کو ایک اور خط ارسال کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گریٹ نکوبار جزیرہ منصوبہ اپنی موجودہ شکل میں بنیادی طور پر ایک بڑے تجارتی منصوبے میں تبدیل ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں علاقے کی نایاب حیاتیاتی تنوع شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے۔
جے رام رمیش اور بھوپیندر یادو کے درمیان گزشتہ چند ماہ کے دوران اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر متعدد خطوط کا تبادلہ ہو چکا ہے۔ تازہ خط میں سابق مرکزی وزیر ماحولیات نے یاد دلایا کہ انہوں نے 10 مئی 2026 کو بھی ایک خط کے ذریعے مطالبہ کیا تھا کہ گریٹ نکوبار منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیتے وقت قانون پر مکمل طور پر عمل کیا جائے، خاص طور پر اس لیے کہ مارچ 2022 کی ماحولیاتی اثرات کے جائزے کی رپورٹ میں خود اسے ابتدائی اور محدود نوعیت کا مطالعہ قرار دیا گیا تھا۔
رمیش نے اپنے خط میں کہا کہ انہیں اس بات پر اطمینان ہے کہ وزارت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ منصوبے کو دی گئی ماحولیاتی منظوری ایسے جامع مطالعات کی بنیاد پر نہیں تھی جن میں تین مختلف موسمی ادوار کے بنیادی اعداد و شمار شامل ہوتے ہیں، بلکہ دستیاب معلومات صرف ایک موسمی دور کے دوران جمع کی گئی تھیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر کے گزشتہ جواب کا بڑا حصہ اس مؤقف کے دفاع میں صرف کیا گیا کہ وزارت کے ماتحت اداروں کے پاس تاریخی نوعیت کے اعداد و شمار موجود تھے جنہیں اثرات کے جائزے کی رپورٹ تیار کرتے وقت استعمال کیا گیا۔ تاہم ان کے مطابق صرف تاریخی ریکارڈ کسی جامع زمینی مطالعے کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری نے دعویٰ کیا کہ گریٹ نکوبار منصوبے سے متعلق بحث کا رخ اب تبدیل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق جب اس منصوبے کے ممکنہ ماحولیاتی نقصانات کے واضح شواہد سامنے آنے لگے تو حکومت نے اس کی مبینہ تزویراتی اہمیت پر زور دینا شروع کر دیا۔
جے رام رمیش نے بتایا کہ انہوں نے الگ سے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو بھی خط لکھا ہے۔ ان کے مطابق بعض دفاعی ماہرین کی رائے ہے کہ ہندوستان اپنے تزویراتی مقاصد گریٹ نکوبار میں آئی این ایس باز کی توسیع اور پورے انڈمان و نکوبار جزائر میں موجود دفاعی تنصیبات کو مضبوط بنا کر زیادہ مؤثر انداز میں حاصل کر سکتا ہے، جبکہ موجودہ منصوبہ بنیادی طور پر ایک وسیع تجارتی سرگرمی کی شکل رکھتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ گریٹ نکوبار دنیا کے ان چند خطوں میں شامل ہے جہاں کئی نایاب انواع اور قدرتی مساکن موجود ہیں۔ ان کے مطابق جزیرے کی حیاتیاتی تنوع کا ایک حصہ ابھی تک مکمل طور پر دریافت بھی نہیں ہو سکا اور مزید تفصیلی زمینی مطالعات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر منصوبہ موجودہ صورت میں آگے بڑھتا رہا تو کئی انواع اور قدرتی مساکن ان کی مکمل فہرست سازی سے پہلے ہی ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتے ہیں۔