Jadid Khabar

’غیر قانونی حراست‘ کے لیے متاثرہ کو 5 لاکھ روپے معاوضہ دے حکومت، الٰہ آباد ہائی کورٹ کا حکم

Thumb

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے اہم فیصلے میں اتر پردیش حکومت کو ایک شخص کو 5 لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کا حکم دیا ہے۔ اس شخص کو ہائی کورٹ کے اس عبوری حکم کے باوجود گرفتار کر کے ’غیر قانونی حراست‘ میں رکھا گیا تھا، جس میں اس کی گرفتاری پر روک لگائی گئی تھی۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا آئندہ سماعت کے دوران معاوضہ اور پولیس انسپکٹر پر کی گئی کارروائی کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی جائے۔

ہائی کورٹ نے 29 مئی کو دیے اپنے حکم میں یہ بھی کہا تھا کہ ’’متعلقہ پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر یعنی اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کے خلاف سرکاری ڈیوٹی کی صحیح ادائیگی میں کوتاہی، ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی اور بے ضابطگی کا ارتکاب کرنے کے لیے تادیبی کارروائی شروع کی جائے۔‘‘ جسٹس سدھارتھ اور جسٹس ونے کمار دویدی کی بنچ انل سونی کی جانب سے داخل ایک ہیبیس کارپس عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ عرضی گزار کے مطابق سدھارتھ نگر ضلع کے اٹاوہ پولیس اسٹیشن میں ایک خاتون کی جانب سے اس کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 69 (دھوکے سے جسمانی تعلقات قائم کرنا) اور دیگر دفعات کے تحت، ساتھ ہی ایس سی/ایس ٹی (مظالم کی روک تھام) ایکٹ کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔ جبکہ عرضی گزار کا مبینہ طور پر گزشتہ 2 سالوں سے اس خاتون کے ساتھ قریبی رشتہ تھا۔
اس سے قبل عرضی گزار نے ایف آئی آر کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔ یکم اپریل کو اس مقدمے کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ کے ایک دیگر ڈویژن بنچ نے اپنا ایک عبوری حکم جاری کیا تھا، جس میں خاص طور سے اس ایف آئی آر کے تعلق میں اس کی گرفتاری پر روک لگائی گئی تھی۔ حالانکہ یہ حکم 6 اپریل کو ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا گیا تھا، لیکن متعلقہ انسپکٹر نے اسے 4 اپریل کو ہی گرفتار کر لیا تھا۔ پھر ہیبیس کارپس عرضی میں عرضی گزار نے بتایا کہ اس کے بھائی نے گرفتاری کے روز ہی ایک نوٹرائز حلف نامہ تیار کیا تھا، تاکہ انسپکٹر کو ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے بارے میں جانکاری دی جا سکے۔ یہاں تک کہ اس کے وکیل نے بھی انسپکٹر سے خود رابطہ کیا تھا، لیکن عرضی گزار کو گرفتار کر لیا گیا۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے گرفتاری کو یہ دلیل دیتے ہوئے درست ٹھہرایا کہ انسپکٹر کی گرفتاری پر روک لگانے والے عبوری حکومت کے پیش نہ کیے جانے کی وجہ سے کارروائی کرنے کا پابند تھا۔ حالانکہ بنچ نے ریاست کی اس دلیل کو خارج کر دیا اور کہا کہ عبوری حکم سرکاری وکیل اور شکایت کنندہ کے وکیل کی موجودگی میں دیا تھا۔ اس لیے بنچ نے کہا کہ تمام مدعا علیہان کو اس حکم کی مکمل جانکاری تھی۔ بنچ نے اس بات پر بھی غور کیا کہ موجودہ عرضی داخل کرنے کے بعد بھی، جس پر مدعا علیہان کے جواب طلب کیے گئے تھے، عرضی گزار کو جیل سے رہا نہیں کیا گیا۔ معاملے کے حقائق پر سخت اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے ہائی کورٹ کی بنچ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جسے اس نے ’افسوسناک رجحان‘ قرار دیا۔
بنچ نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم نے دیکھا ہے کہ اس افسوسناک رجحان کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ریاستی وکیل عدالت کے جاری کردہ حکم کی معلومات پولیس افسران کو نہیں دیتے ہیں، جس کی وجہ سے افسران اس عدالت کے جاری کردہ حکم کی تعمیل نہیں کرتے ہیں، یا پھر پولیس افسران عدالت کے احکامات کے تئیں بے ادبی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور وہ بدنیتی پر مبنی طریقے سے کام کرتے ہیں۔‘‘ ہائی کورٹ نے سماعت کی اگلی تاریخ 13 جولائی طے کرتے ہوئے متعلقہ پولیس سپرنٹنڈنٹ کو یہ سخت حکم دیا کہ وہ عرضی گزار کو معاوضہ دینے کے سلسلے میں ایک تعمیلی حلف نامہ داخل کریں، ساتھ ہی انسپکٹر کے خلاف شروع کی گئی تادیبی کارروائی کے بارے میں بھی معلومات فراہم کریں۔