سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے نماز سے متعلق بیان پر کہا کہ سڑکوں پر کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے، اس کے لیے قواعد و ضوابط موجود ہیں، لیکن اس معاملے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔ بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے ایس پی سربراہ نے کہا کہ اگر کوئی پارٹی سب سے ’ادھرمی‘ (جو مذہب کو نہیں مانتی) ہے تو وہ بی جے پی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی سب کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتی ہے۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ حال ہی میں بار ایسوسی ایشن کے ممبران احتجاج کرنے نکلے تھے، جن کے ہاتھوں میں ’رام چرتر مانس‘ تھی، پھر بھی ان پر لاٹھی چارج کیا گیا اور انہیں مارا پیٹا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی خود کو سناتن کی پیرو کار مانتی ہے تو اسے ’’واسودیو کٹمبکم‘‘ کی روح پر چلنا چاہیے۔ اکھلیش نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو اسمارٹ سٹی بن پائی اور نہ ہی اسمارٹ میٹر اسکیم بچ سکی، جنہیں ہٹانا پڑا۔ ایسے میں حکومت کے کام کاج پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اتوار (18 مئی) کو’ امر اجالا‘ کے ایک پروگرام میں کہا کہ اتر پردیش میں سڑکوں پر نماز نہیں ہونے دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ سڑکیں ٹریفک کے لیے ہیں اور کسی کو بھی چوراہوں یا سڑکوں کو بلاک کرکے عوامی زندگی کو متاثر کرنے کا حق نہیں ہے۔ یوگی نے کہا کہ نماز کے لیے مخصوص مقامات موجود ہیں اور لوگوں کو وہیں جاکر عبادت کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر لوگوں کی تعداد زیادہ ہے تو وہ شفٹوں میں نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے آبادی کنٹرول کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر وسائل اور جگہ محدود ہے تو آبادی بڑھانے پر بھی غور کرنا چاہیے۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ قانون کے دائرے میں رہنا چاہتے ہیں انہیں اصول و ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نماز پڑھنے سے نہیں روک رہی تاہم سڑک پر مذہبی اجتماعات یا رکاوٹیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سڑکیں عام شہریوں، مریضوں، ملازمین اور کارکنوں کے لیے ہیں، اس لیے ٹریفک میں خلل نہیں آنے دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ اگر لوگ بات چیت اور سمجھانے سے مان جائیں تو ٹھیک ہے، لیکن اگر نہیں مانیں گے تو حکومت سختی سے بھی نپٹے گی۔ بریلی کے ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے یوگی نے کہا کہ وہاں لوگوں نے ’’ ہاتھ آزمانے‘‘ کی کوشش کی تھی اور حکومت کی طاقت بھی دیکھ لی۔ ان کے مطابق حکومت ہر نظام کو امن و امان کے دائرے میں لانا چاہتی ہے۔