نئی دہلی، 09 مئی (یواین آئی) سپریم کورٹ نے جمعہ کو اس سپاہی کی برطرفی کے حکم کو درست قرار دیا ہے جس نے جھارکھنڈ پولیس سے دو دن کی چھٹی لے کر جعلی شناخت کے ساتھ بہار پولیس میں ملازمت حاصل کر لی تھی۔
جسٹس احسن الدین امان اللہ اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ نے جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں ملزم سپاہی رنجن کمار کو ملازمت سے برطرف کرنے کے تادیبی اتھارٹی کے حکم کو مسترد کر دیا گیا تھا۔
عدالت کے مطابق، کامتا سنگھ کے بیٹے رنجن کمار کو 18 مئی 2005 کو جھارکھنڈ پولیس میں بطور سپاہی بھرتی کیا گیا تھا۔ دھرکی تھانے میں ریزرو گارڈ کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے اسے 20 دسمبر 2007 سے 22 دسمبر 2007 تک دو دن کی معاوضہ چھٹی دی گئی تھی۔ تاہم وہ 23 دسمبر کو ڈیوٹی پر واپس نہیں آیا اور بغیر کسی اطلاع کے غیر حاضر رہا۔
تحقیقات میں پتا چلا کہ اسی غیر حاضری کے دوران رنجن کمار نے 26 دسمبر 2007 کو بہار میں 'سنتوش کمار والد کامتا شرما' کے نام سے اور جعلی اسناد و دستاویزات کی بنیاد پر سپاہی کی ملازمت حاصل کر لی تھی۔ اس کے بعد اس نے 6 جنوری 2008 کو بغیر کسی اجازت کے پٹنہ ضلع پولیس کی ڈیوٹی بھی چھوڑ دی۔
سینئر ایس پی پٹنہ اور ایس پی جہان آباد کی جانب سے کرائی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ رنجن کمار اور سنتوش کمار دراصل ایک ہی شخص تھے۔ جھارکھنڈ پولیس کی محکمہ جاتی جانچ میں دھوکہ دہی، دوسرے کا روپ دھارنے ، جعلسازی، ڈیوٹی سے غیر مجاز غیر حاضری اور سروس ڈسپلن کی خلاف ورزی کے الزامات ثابت ہوئے۔
سپریم کورٹ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ عوامی خدمات میں اس طرح کی دھوکہ دہی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔