نئی دہلی: دہلی کے شاہدرہ ضلع کی سائبر پولیس نے ایک بڑے سائبر ٹھگی گینگ کا پردہ فاش کرتے ہوئے 14 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ گینگ آن لائن نوکری دلانے کے نام پر لوگوں کو نشانہ بناتا تھا اور اب تک 8 کروڑ روپے سے زائد کی ٹھگی کے سراغ ملے ہیں۔
پولیس کو 25 اپریل کو اطلاع ملی تھی کہ گیتا کالونی کے ایک ہوٹل میں کچھ مشتبہ افراد سائبر فراڈ کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اطلاع ملنے کے بعد سینئر افسران کی نگرانی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ ٹیم نے ہوٹل پر چھاپہ مار کر مختلف کمروں میں ٹھہرے 12 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔ بعد میں لدھیانہ سے مزید دو ملزمان کو پکڑا گیا، جس کے بعد گرفتار افراد کی تعداد 14 ہو گئی۔
یہ کارروائی سائبر تھانہ انچارج وجے کمار کی قیادت میں انجام دی گئی۔ ٹیم میں انسپکٹر شویتا شرما، سب انسپکٹر شیام بہاری، سب انسپکٹر وویک اور اے ایس آئی راجدیپ سمیت دیگر اہلکار شامل تھے۔ پوری کارروائی اے سی پی آپریشنز موہندر سنگھ کی نگرانی میں کی گئی۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ یہ گینگ تلنگانہ، پنجاب، مغربی بنگال، اتر پردیش، بہار، آسام اور مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں سرگرم تھا۔ پولیس کے مطابق گینگ کے سرغنہ پردیپ عرف “الفا” اور تیجپال سنگھ عرف “کنگ” ٹیلیگرام گروپس کے ذریعے پورے نیٹ ورک کو چلاتے تھے۔
پولیس نے بتایا کہ ملزمان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور جاب پورٹلز پر نوکری تلاش کرنے والے نوجوانوں کو نشانہ بناتے تھے۔ ورک فرام ہوم، پارٹ ٹائم اور زیادہ تنخواہ والی نوکریوں کا لالچ دے کر لوگوں سے رابطہ کیا جاتا تھا۔ بعد میں بات چیت کو واٹس ایپ سے ٹیلیگرام پر منتقل کر دیا جاتا تھا تاکہ پولیس کے لیے سراغ لگانا مشکل ہو جائے۔
ملزمان فرضی کمپنی پروفائل، جعلی آفر لیٹر اور ٹاسک بیسڈ کمائی کا جھانسہ دے کر پہلے تھوڑی رقم ادا کرتے تھے تاکہ متاثرہ شخص کا اعتماد جیت سکیں۔ اس کے بعد بڑی رقم ہتھیا لی جاتی تھی۔ پولیس کے مطابق گینگ فرضی دستاویزات کی مدد سے بینک کھاتے کھلواتا تھا اور ٹھگی کی رقم ان کھاتوں میں منتقل کی جاتی تھی۔ بعد میں رقم کو مختلف کھاتوں میں گھما کر اے ٹی ایم، یو پی آئی اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے نکال لیا جاتا تھا۔
پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 18 موبائل فون، 19 سم کارڈ، ایک لیپ ٹاپ، 3 اے ٹی ایم کارڈ، 4 چیک بُک اور 2 اسٹامپ برآمد کیے ہیں۔ اس معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس اب گینگ کے دیگر ارکان اور اس کے بین الاقوامی روابط کی جانچ کر رہی ہے۔