Jadid Khabar

ایران نے یو اے ای پر میزائل اور ڈرون سے کیا حملہ

Thumb

ایک طرف مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں، اور دوسری طرف رہ رہ کر ہو رہے حملوں سے کشیدگی بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق ایران نے ایک بار پھر یو اے ای پر جارحانہ حملہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے کئی بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرون یو اے ای کی طرف داغے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یو اے ای کے ایئر ڈیفنس سسٹم فعال ہیں اور مسلسل ایرانی میزائلوں کو تباہ کر رہے ہیں۔

سامنے آ رہیں رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ یو اے ای کی نیشنل ایمرجنسی اور کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے لوگوں سے محفوظ مقامات پر رہنے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ عوام صرف سرکاری اپڈیٹس پر بھروسہ کریں۔ ایران کا تازہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے، جب ایک رات پہلے ہی امریکہ اور ایران کے درمیان میزائل حملے ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ پیر کو بھی ایران نے یو اے ای پر 15 میزائل اور 4 ڈرون سے حملہ کیا تھا۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی سمیت دنیا کے کئی رہنماؤں نے یو اے ای پر ہوئے اس حملے کی مذمت کی تھی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان 8 اپریل کو جنگ بندی ہوئی تھی، لیکن 30 دن کی خاموشی کے بعد اب مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ حالانکہ آبنائے ہرمز معاملہ پر رہ رہ کر چھوٹے موٹے حملے ہوتے رہے ہیں، جو امن کی کوششوں پر اثر انداز بھی ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز پر کشیدگی: ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کی امریکہ کو سخت تنبیہ، کہا- ’ہم نے تو ابھی شروعات بھی نہیں کی‘
بہرحال، یو اے ای نے ایران کے تازہ حملوں سے ہونے والے نقصان کا مکمل ریکارڈ تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی کا کام حملوں میں ہونے والے جانی و مالی نقصان اور شواہد کو جمع کرنا ہوگا۔ بعد میں انہی شواہد کی بنیاد پر یو اے ای قانونی کارروائی اور انصاف کا مطالبہ کرے گا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ڈبلیو اے ایم‘ کے مطابق اس کمیٹی کی سربراہی یو اے ای کے اٹارنی جنرل کریں گے۔ اس میں کئی وزارتوں اور سرکاری ایجنسیوں کے افسران شامل ہوں گے۔ ضرورت پڑنے پر غیر ملکی ماہرین کی مدد بھی لی جائے گی۔
یو اے ای کا کہنا ہے کہ ایران نے جنگ کے دوران اب تک 2000 سے زیادہ ڈرون، سیکڑوں بیلسٹک میزائل اور کئی کروز میزائل داغے ہیں۔ بیشتر حملوں کو ایئر ڈیفنس سسٹم نے ناکام بنا دیا، لیکن اس کے باوجود 13 افراد ہلاک ہوئے اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ کئی تیل اور توانائی کے مراکز کے ساتھ اہم عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ یو اے ای پہلے بھی ایران سے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے اور نقصانات کی بھرپائی کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔ اب تازہ حملوں کے بعد تشکیل دی گئی کمیٹی انسانی، معاشی اور املاک کے نقصان کا مکمل حساب تیار کرے گی تاکہ بین الاقوامی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکے۔ یو اے ای نے ایران کے ان بیانات پر بھی ناراضگی ظاہر کی ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ یو اے ای کا تعاون ایران کی سلامتی کے خلاف ہے۔ یو اے ای کی وزارت خارجہ نے کہا کہ کسی بھی ملک کے ساتھ دفاعی تعاون کرنا اس کا اپنا حق ہے۔