Jadid Khabar

آن لائن گیمنگ کمپنی گیمزکرافٹ پر ای ڈی کی کارروائی، تین بانی گرفتار

Thumb

نئی دہلی: آن لائن رئیل منی گیمنگ سے وابستہ بڑی کمپنی گیمزکرافٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے کمپنی کے تین بانیوں دیپک سنگھ، پرتھوی راج سنگھ اور وکاس تنیجا کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی منی لانڈرنگ، دھوکہ دہی اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق مقدمات میں کی گئی ہے۔

ای ڈی ذرائع کے مطابق گیمزکرافٹ اور اس سے وابستہ دیگر اداروں کے خلاف مختلف ریاستوں میں کئی ایف آئی آر درج کی گئی تھیں۔ ان شکایات میں الزام لگایا گیا تھا کہ کمپنی نے آن لائن گیمنگ پلیٹ فارم کے ذریعے لوگوں کو مالی نقصان پہنچایا اور انہیں بڑے منافع کے لالچ میں گمراہ کیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ کمپنی رمّی کلچر اور رمّی ٹائم جیسے آن لائن رئیل منی گیمنگ پلیٹ فارم چلاتی تھی، جہاں صارفین حقیقی رقم لگا کر کھیل میں حصہ لیتے تھے۔
تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق جانچ کے دوران ایسے کئی معاملات سامنے آئے، جن میں مبینہ طور پر گیمز میں بھاری رقم ہارنے کے بعد لوگ ذہنی دباؤ اور معاشی بحران کا شکار ہوئے۔ بعض معاملات میں خودکشی جیسے سنگین الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ انہی شکایات اور ایف آئی آر کی بنیاد پر ای ڈی نے منی لانڈرنگ روک تھام قانون یعنی پی ایم ایل اے کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کیں۔
ای ڈی نے 7 مئی 2026 کو کرناٹک اور این سی آر خطے میں مجموعی طور پر 17 مقامات پر چھاپے مارے۔ یہ کارروائیاں گیمزکرافٹ گروپ کی مختلف کمپنیوں، بانیوں اور بعض ملازمین سے وابستہ مقامات پر کی گئیں۔ چھاپوں کے دوران کئی اہم دستاویزات، ڈیجیٹل ریکارڈ اور الیکٹرانک آلات ضبط کیے گئے، جنہیں ایجنسی نے تحقیقات کے لیے نہایت اہم قرار دیا ہے۔
ای ڈی کا کہنا ہے کہ ضبط شدہ مواد اور مالی لین دین کی جانچ کے دوران منی لانڈرنگ سے متعلق خاطر خواہ شواہد سامنے آئے۔ اس کے بعد 8 مئی 2026 کو پی ایم ایل اے کی دفعہ 19 کے تحت تینوں بانیوں کو گرفتار کیا گیا۔ دیپک سنگھ اور پرتھوی راج سنگھ کو این سی آر خطے سے گرفتار کیا گیا، جبکہ وکاس تنیجا کو بنگلورو سے حراست میں لیا گیا۔ بعد میں دونوں ملزمین کو بنگلورو کی عدالت میں پیش کرنے کے لیے ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ای ڈی اب کمپنی کے مالی نیٹ ورک، سرمایہ کاری کے ذرائع اور مختلف لین دین کی گہرائی سے جانچ کر رہی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تحقیقات کے دوران مزید انکشافات اور مزید گرفتاریاں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔