ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوششیں محض سفارتی حکمتِ عملی نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہری معاشی ضرورت کارفرما ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان اس تنازع میں کسی حد تک کامیاب ثالثی کر لیتا ہے تو نہ صرف تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں اچانک اضافے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے بلکہ ملک کے اندر توانائی کے شعبے پر بڑھتا ہوا دباؤ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک ایسی معیشت ہے جو توانائی کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتی ہے، خاص طور پر خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات اس حوالے سے نہایت اہم ہیں۔ ایسے میں اگر خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر تیل کی قیمتوں، درآمدی بل اور زرِمبادلہ کے ذخائر پر پڑتا ہے۔ پاکستان اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے بیل آؤٹ پروگرام کے تحت اپنی معیشت کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے تحت اسے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا مرکزی بینک جون کے اختتام تک زرِمبادلہ کے ذخائر کو تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھتا ہے، جبکہ ملک پہلے ہی سات ارب ڈالر کے پروگرام پر انحصار کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی بیرونی جھٹکے، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی مجموعی درآمدات میں تیل کا حصہ 16.64 فیصد رہا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی منڈی میں معمولی اتار چڑھاؤ بھی ملکی معیشت پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کو بڑھاتا ہے اور مقامی کرنسی پر دباؤ ڈالتا ہے، جس سے معاشی استحکام کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔
رپورٹ میں مائع قدرتی گیس کے حوالے سے بھی پاکستان کی کمزوری کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس شعبے میں ملک خلیجی ممالک، خاص طور پر قطر، پر کافی انحصار رکھتا ہے۔ موجودہ کشیدگی نے اس انحصار کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جس سے توانائی کی فراہمی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہے۔
اسی دوران ملک میں بجلی کا بحران بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں قلت بڑھ کر تقریباً 3,400 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ شمالی علاقوں کے بعض حصوں میں روزانہ سات گھنٹے تک بجلی کی کٹوتی ہو رہی ہے، جو عوامی زندگی اور صنعتی سرگرمیوں دونوں کو متاثر کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان رسمی بینکاری نظام کی عدم موجودگی کے باعث کئی تجارتی لین دین اب بھی بارٹر نظام کے تحت انجام دیے جاتے ہیں۔ اس پس منظر میں پاکستان کا یہ واضح مفاد ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کسی طویل تنازع میں تبدیل نہ ہو، کیونکہ اس کا براہِ راست اثر ملک کی معیشت اور توانائی کے تحفظ پر پڑ سکتا ہے۔