دھرم شالہ، 30 اپریل (یو این آئی) کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت ٹال مٹول کے بعد بھلے ہی ذات پر مبنی مردم شماری کرانے پر رضامند ہوگئی ہے لیکن مردم شماری کیسے ہوگی اس کے خاکے کے تعلق سے اب تک کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی ہے۔
کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم'ایکس' پر کہا کہ آج سے ٹھیک ایک سال پہلے حکومت نے مردم شماری میں ذات کی بنیاد پر گنتی شامل کرانے کا اعلان کیا تھا لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود اس کے نفاذ کو تعلق سے صورتحال اب بھی غیر واضح بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر حکومت کے رخ میں آئی تبدیلی کو 'ڈرامائی یو ٹرن' قرار دیتے ہوئے واقعات کا ترتیب وار ذکر کیا اور کہا کہ 21 جولائی 2021 کو وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں کہا تھا کہ حکومت نے پالیسی کے طور پر ذات پات پر مبنی مردم شماری نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پھر 21 ستمبر 2021 کو مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل حلف نامے میں بھی اسی موقف کو دہرایا۔
مسٹر رمیش کے مطابق 16 اپریل 2023 کو پارٹی صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر باقاعدہ مردم شماری کے ساتھ اپڈیٹڈ ذاتی مردم شماری کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے باوجود 28 اپریل 2024 کو ایک انٹرویو میں مسٹر مودی نے اس مطالبے کو 'اربن نکسل' سوچ سے متاثر بتایا تھا۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ اس کے ٹھیک ایک سال بعد 30 اپریل 2025 کو حکومت نے ذاتی بنیاد پر مردم شماری کا اعلان کر دیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت کا رخ مسلسل بدلتا رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے اس بیان پر معافی مانگنے اور ملک کی عوام کو اس تبدیلی کی وجوہات واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ذاتی بنیاد پر مردم شماری کے عمل کے سلسلے میں اب تک نہ تو اپوزیشن پارٹیوں، نہ ریاستی حکومتوں اور نہ ہی متعلقہ ماہرین کے ساتھ کوئی بامعنی مذاکرات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 مئی 2025 کو مسٹر کھرگے کی جانب سے لکھے گئے خط کا بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا، جبکہ اس میں اٹھائے گئے امور آج بھی اہم ہیں۔
حال ہی میں ختم ہوئے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس نے الزام لگایا کہ حکومت اس اہم معاملے کو ٹالنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ابھی تک اس کا واضح خاکہ سامنے نہ آنا اسی کا اشارہ ہے۔