نئی دہلی، 30 اپریل (یو این آئی) وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ آپریشن سندور نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ ہندوستان اپنی سرزمین پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد اب محض سفارتی بیانات جاری کرنے کی پرانی ذہنیت تک محدود نہیں ہے، بلکہ آگے بڑھ کر فیصلہ کن کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو یہاں ایک قومی سلامتی سے متعلق ایک چوٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے واضح موقف اپنایا ہے کہ کسی بھی صورت حال میں دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے سرجیکل اسٹرائیک، فضائی حملوں اور آپریشن سندور کو دہشت گردی کے خلاف حکومت کے پختہ عزم کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا، "دہشت گردی ایک بگڑی ہوئی اور ذہنی خلل والی ذہنیت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ انسانیت پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف قومی سلامتی کا معاملہ نہیں ہے، یہ بنیادی طور پر انسانی اقدار کے تحفظ کی جنگ ہے۔ یہ ایک وحشیانہ نظریے کے خلاف جدوجہد ہے جو ہر انسانی قدر کے براہ راست مخالف کھڑی ہے۔ ہم نے اس ہندوستانی نقطہ نظر کو ملک کے اندر اور بیرون ملک واضح طور پر پیش کیا ہے۔"
وزیر دفاع نے کہا کہ جب تک دہشت گردی موجود رہے گی، یہ اجتماعی امن، ترقی اور خوشحالی کو چیلنج کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا، "دہشت گردی کو مذہبی رنگ دے کر یا اسے نکسل ازم جیسے پرتشدد نظریات سے جوڑ کر جائز قرار دینے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ یہ انتہائی خطرناک ہے اور ایک طرح سے دہشت گردوں کو ڈھال فراہم کرتا ہے تاکہ وہ آہستہ آہستہ اپنے مقصد کی طرف بڑھ سکیں۔ دہشت گردی صرف ملک دشمن فعل نہیں ہے، اس کے کئی پہلو ہیں-آپریشنل، نظریاتی اور سیاسی۔ اس سے اسی وقت نمٹا جا سکتا ہے جب ہم ان تمام پہلوؤں پر کام کریں۔"
پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کی مسلسل حمایت پر راج ناتھ سنگھ نے کہا، "ہندوستان اور پاکستان دونوں نے ایک ہی وقت میں آزادی حاصل کی تھی۔ تاہم آج ہندوستان کو عالمی سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے لیے جانا جاتا ہے، جب کہ پاکستان کو ایک الگ قسم کے آئی ٹی یعنی 'بین الاقوامی دہشت گردی' کا مرکز مانا جاتا ہے۔"
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کو ہندوستانی مسلح افواج کے اتحاد اور ہم آہنگی کی بہترین مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بری فوج، ہندوستانی بحریہ اور ہندوستانی فضائیہ نے متحد ہو کر اور مربوط منصوبہ بندی کے تحت کام کیا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ ہندوستان کی فوجی طاقت اب الگ الگ حصوں میں کام نہیں کرتی، بلکہ یہ ایک متحدہ، مربوط اور عالمی طاقت کے طور پر ابھری ہے۔