روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کل یعنی29 اپریل کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے ایران اور یوکرین کے بارے میں ڈیڑھ گھنٹے سے زائد بات چیت کی۔ بات چیت کے دوران صدر پوتن نے ٹرمپ کو ایران کے خلاف مستقبل میں فوجی کارروائی کے خلاف بھی خبردار کیا۔
نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ٹرمپ سے کہا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے مشرق وسطیٰ میں دوبارہ فوجی کارروائی کی تو اس کے نتائج انتہائی سنگین اور نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پوتن سے کہا کہ یوکرین میں جاری تنازع کے حل کے لیے معاہدہ اب بہت قریب ہے۔ پوتن نے کہا کہ وہ یوم فتح کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کرنے کے لیے تیار ہیں اور ڈونالڈ ٹرمپ نے پوتن کے اقدام کی حمایت کی۔
ولادیمیر پوتن اور ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی قیادت میں یوکرین کی حکومت کے رویے پر ایک جیسے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کی حکومت تنازع کو طول دے رہی ہے۔ جس کے بعد فون کال کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے ایک دوسرے کو الوداع کیا۔