Jadid Khabar

بی جے پی حکومت میں بہاری ہونا ہی سب سے بڑا جرم ہے: تیجسوی یادو

Thumb

پٹنہ، 28 اپریل (یو این آئی) راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی ایگزیکٹو صدر تیجسوی یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ موجودہ نظام میں "بہاری ہونا" ہی سب سے بڑا جرم اور ملک دشمن بن گیا ہے۔
مسٹر یادو نے منگل کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں کھگڑیا کے رہنے والے 23 سالہ نوجوان پانڈو کمار کو مبینہ طور پر صرف 'بہاری' ہونے کی وجہ سے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جبکہ اس کا دوست کرشنا شدید حالت میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دارالحکومت میں جہاں یہ واقعہ پیش آیا، وہاں سے لے کر مرکز تک ہر سطح پر بی جے پی کی حکومت ہے، اس کے باوجود ایک محنت کش بہاری نوجوان کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی کے کسی لیڈر میں اتنی ہمت ہے کہ وہ ملزم پولیس اہلکار کو سخت سزا دلوا سکے؟
آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے الزام لگایا کہ گزشتہ 21 سالوں کی نتیش-بی جے پی کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے بہار کے باشندوں کو مجبوراً دوسری ریاستوں میں ہجرت کرنی پڑتی ہے، جہاں انہیں عزت کے بجائے امتیازی سلوک، شک اور ہراساں کیے جانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس دہلی پولیس پر لوگوں کی حفاظت کی ذمہ داری ہے، اسی نے محض 'بہاری ہونے' کی وجہ سے ایک شخص کو مجرم مان لیا اور گولی مار دی، اس سے زیادہ قابل مذمت واقعہ اور کیا ہو سکتا ہے۔
مسٹر یادو نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور گہری تحقیقات کرائی جائے، مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، متاثرہ خاندان کو مناسب معاوضہ دیا جائے اور ملزم کو کڑی سزا دلائی جائے۔ انہوں نے اس واقعے کو بہار اور بہار کے لوگوں کی عزت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان کو فوری انصاف ملنا چاہیے۔